Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ تھے۔ یہ واقعہ ہے کہ بعد کے دور کے مسلمانوں میں روحِ اسلام کا زوال ہوا۔ اسلام کے مظاہر تو کثرت سے موجود تھے، مگر اسلام کی روح بہت مضحل ہوگئی تھی۔ اس وقت جو لوگ روحِ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے ان میں سے ایک رابعہ بصری بھی تھیں۔ حسن بصری کا دور علمی اعتبار سے رابعہ بصری سے بلند ہے۔ تاہم نوعیت کے اعتبار سے دونوں ایک زمرہ میں آتے ہیں۔ حسن بصری کے زمانہ میں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ منتخب ہوئے۔ انھوں نے حسن بصری کو خط لکھا کہ مجھے خلافت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسے افراد بتائیے جو اس کام میں میری مدد کریں۔ اس کے جواب میں حسن بصری نے انھیں لکھا: أما ابناء الدنيا فلا تريدهم، و اما ابناء الآخرة فلا يريدونك، فاستعن بالله _ یعنی جو دنیا پرست ہیں ان کو آپ نہیں چاہیں گے اور جو آخرت پسند ہیں وہ آپ کو نہیں چاہیں گے۔ پس آپ اللہ سے مدد مانگیے (الأعلام للزركلي، جلد 2، صفحہ 226)۔ راقم الحروف کے نزدیک حسن بصری کا یہ جواب ایک غلو کا جواب تھا۔ عمر بن عبدالعزیز ایک خلیفۂ راشد تھے۔ حسن بصری کو چاہیے تھا کہ وہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہی معاملہ رابعہ بصری کا بھی تھا۔ وقت کے کئی بڑے لوگوں نے ان کی طرف رجوع کیا۔ مگر استغنا کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ان سے دور رہیں۔ رابعہ بصری (اور اس زمانہ کے دوسرے صوفیا) کے یہاں غلو تھا۔ مگر انھوں نے ایک کام کیا۔ انھوں نے ظاہر پسندی اور مادہ پرستی کی حوصلہ شکنی کی۔ انھوں نے اُس وقت روحِ اسلام کو زندہ کرنے کی کوشش کی جب کہ اس پر عمومی اضمحلال آچکا تھا۔ تاتاری دور کی خواتین کا کارنامہ اسلام کی تاریخ ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی ۔ پانچ صدیوں تک شاندار سفر کرنے کے بعد تیرہویں صدی میں ایک زبردست حادثہ پیش آیا۔ تاتاری قبائل ہزار کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page