Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

تعداد میں اپنے کو ہستانی علاقوں سے نکلے۔ انھوں نے سمر قند سے لے کر حلب تک پوری مسلم سلطنت کو تاراج کر دیا۔ یہاں تک کہ 1258 میں عباسی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد نصف صدی کے اندر یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ تاتاری فاتحین کی اکثریت نے دین اسلام قبول کر لیا اور وہ انوکھا واقعہ پیش آیا جس کو پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (T.W.Arnold) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ فاتحین نے مفتوح کے مذہب کو اختیار کر لیا: The conquerors have accepted the religion of the conquered. The Preaching of Islam by T.W. Arnold, Feroz sons Ltd, Lahore, 1979, p.2 پروفیسر آرنلڈ نے اس معاملہ میں کافی تحقیق کی ہے کہ ان فاتحین نے کس طرح اسلام قبول کیا۔ اپنی 508 صفحہ کی کتاب ’’دی پریچنگ آف اسلام‘‘ میں انھوں نے اس سلسلہ میں مختلف اسباب اور واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ غالباً پروفیسر آرنلڈ کی یہ کتاب پہلی کتاب ہے جس میں ان تاتاری فاتحین کے قبولِ اسلام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر مسلم علماء اور مورخین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے مگر محض ضمنی طور پر۔ مثلاً اقبال نے لکھا ہے: ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے پا سِبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے مگر اقبال یا کسی اور مسلم شخصیت نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ ٹی ڈبلیو آرنلڈ جو 1892ء کے زمانہ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر تھے، انھوں نے اس دور میں یہ کتاب لکھی۔ پروفیسر آرنلڈ نے اپنی کتاب میں فاتح تاتاریوں کے قبول اسلام کے جو اسباب بتائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تاتاریوں نے 1258ء میں جب عباسی سلطنت کو ختم کیا تو انھوں نے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو پکڑ کر اپنے گھروں میں خادم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page