عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
کے طور پر رکھ لیا۔ یہ عورتیں جوتا تاریوں کے گھروں میں پہنچیں، وہ تاتاریوں کے اوپر اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئیں۔ کبھی براہِ راست طور پر اور کبھی بالواسطہ طور پر، اُن کے ذریعہ تاتاریوں تک اسلام کا پیغام پہنچتا رہا۔ براہِ راست تبلیغ کی صورت تو یہ تھی کہ تاتاری اپنے تجسس کے جذبہ کے تحت ان عورتوں (یا مردوں) سے سوال کرتے اور پوچھتے کہ تمہارا مذہب کیا ہے۔ بالواسطہ تبلیغ کی صورت یہ تھی کہ ان مسلم عورتوں اور مسلم مردوں کے طریقوں کو دیکھ کر تاتاری اس کی تفصیل پوچھتے۔ مثلاً وہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہوئے سنتے تو پوچھتے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ یا کام شروع کرتے ہوئے ان میں سے کوئی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہتا اور اس کو سُن کر تاتاری لوگ پوچھتے کہ یہ کیا چیز ہے۔ اسی طرح وہ ان کی زبان سے قرآن کی کوئی آیت یا کوئی حدیث رسول سنتے اور پھر اس کا مفہوم جاننے کی کوشش کرتے، وغیرہ۔ اس طرح یہ مسلم خواتین (مردوں کے ساتھ) اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنی رہیں۔ اُن کی وجہ سے ہر گھر میں اسلام کا پرامن چرچا ہونے لگا۔ یہ طریقہ پوری ایک نسل تک جاری رہا۔ آخر کار اس کے سبب سے (نیز دوسرے اسباب سے) یہ واقعہ ہوا کہ فاتح تاتاریوں کی اکثر تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ مقام جہاں بظاہر اسلام کی تاریخ ختم ہو گئی تھی، وہیں سے اسلام کی تاریخ دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ شروع ہو گئی۔ اس تاریخ ساز واقعہ میں مسلم عورتوں کا حصہ بھی تقریباً اتنا ہی ہے جتنا کہ مسلم مردوں کا حصہ۔ اکبر کی والدہ کی مثال ملّا عبدالنبی (وفات 991 ھ) شہنشاہ اکبر کے زمانہ کے بڑے علماء میں سے ایک تھے۔ ان کی بنوائی ہوئی ایک مسجد اب بھی نئی دہلی میں بہادر شاہ ظفر مارگ کے کنارے موجود ہے جو مسجد عبدالنبی کے نام سے مشہور ہے۔ ملّا عبدالنبی شہنشاہ اکبر کے استاد تھے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader