Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا پروھ اکبر کے دربار میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے۔ اکبر نے ملا عبد النبی کو حکومت میں صدر الصدور کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔ اکبر سے خصوصی تعلق کی بنا پر ملا عبد النبی کو اس زمانہ میں نہایت عزت کا مقام حاصل ہوا۔ ملا عبد القادر بدایونی کا بیان ہے کہ منصب صدارت کو کسی سلطنت میں وہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی جو ملا عبد النبی کے زمانہ میں اسے حاصل تھی: در زرمان ہیچ بادشاہی ایس چنیں صدرے با استقلال نگشته ... اکبر کو ملا عبد النبی سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ اُن کے جوتے سیدھا کرتا تھا۔ ان کے مکان پر جا کر ان سے حدیث سنتا تھا۔ ملا عبد النبی کی صحبت سے اس کی مذہبیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ مسجد میں خود اذان دیتا تھا اور ثواب کی خاطر بعض اوقات مسجد میں جھاڑو بھی دیتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اس کی سالگرہ کی تقریب تھی۔ اکبر نے اپنی مشہور پالیسی کے مطابق، اس دن جو کپڑا پہنا تھا وہ زعفرانی رنگ (گیروے رنگ) کا کپڑا اٹھا۔ ملا عبد النبی نے اس کو دیکھا تو وہ اس کو ہندوّانہ رنگ سمجھ کر غصہ ہو گئے اور بھرے دربار میں اکبر کو اپنے عصا سے مار دیا۔ اکبر کو اس پر ناگواری ہوئی مگر وہ خاموشی سے اٹھ کر محل کے اندر چلا گیا۔ محل کے اندر اُس کی ماں مریم مکانی موجود تھیں۔ اس نے اپنی ماں سے کہا کہ ملا عبد النبی نے آج بھرے دربار میں مجھ کو مارا۔ اگر وہ تنہائی میں مجھ کو نصیحت کرتے تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ اکبر کی ماں مریم مکانی ایک ذہین اور صاحب علم خاتون تھیں۔ انھوں نے اکبر کی بات سن کر کہا۔ بیٹے، دل پر میل نہ لانا، یہ تمہارے لیے نجاتِ آخرت کا ذریعہ ہے۔ قیامت تک چر چار ہے گا کہ ایک بے اختیار مُلانے بادشاہ کے ساتھ یہ حرکت کی اور سعادت مند بادشاہ نے اس پر صبر کر لیا (مآثر الامراء، جلد دوم، صفحہ 560)۔ مریم مکانی نے اکبر کو جو جواب دیا وہ کوئی سادہ جواب نہ تھا۔ اس میں بیک وقت دو اہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page