Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

باتیں چھپی ہوئی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مریم مکانی کوئی معمولی خاتون نہ تھیں۔ وہ ایک با کمال مسلم خاتون تھیں۔ مزید یہ کہ مریم مکانی کی زندگی میں اس طرح کے واقعات یقینی طور پر اور بھی بہت سے ہوں گے جن کا ہمیں علم نہیں۔ عین ممکن ہے کہ اکبر کے اندر جو غیر معمولی صفات تھیں وہ بھی کسی نہ کسی طور پر مریم مکانی کی تربیت کے ذریعہ اکبر کو ملی ہوں۔ مریم مکانی کے مذکورہ جواب کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اصل یہ ہے کہ اکبر نے ہندو مسلم تعلقات کو بڑھانے کے لیے یہ کیا کہ بعض اجتماعی مواقع پر وہ زعفرانی (یا گیروی) کپڑے پہن لیتا تھا۔ ظاہر پسند علماء اس پر بہت برہم تھے۔ مذکورہ واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مریم مکانی اپنی ذہانت کی بنا پر یہ سمجھتی تھیں کہ اکبر کا یہ طریقہ ہندوستانہ رسم کی تقلید نہیں ہے بلکہ وہ ایک گہری دعوتی تدبیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بنا پر مریم مکانی کو اس واقعہ پر وہ غصہ نہیں آیا جو ملا عبد النبی کو آیا تھا۔ یہ واقعہ مریم مکانی کی شعوری بیداری کا ثبوت ہے۔ موجودہ زمانہ کے علماء میں مولانا حسین احمد مدنی میرے علم کے مطابق، واحد شخص ہیں جنھوں نے اکبر کی روش کو گہرائی کے ساتھ سمجھا اور اس کا اعتراف کیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اکبر نے گیروی کپڑے پہننے اور اس طرح کے دوسرے بعض مراسم کو اختیار کرنے کا جو طریقہ شروع کیا اس کا مقصد ہندو کلچر کو اپنانا نہیں تھا بلکہ وہ ’’تالیف قلب‘‘ کی نوعیت کا ایک معاملہ تھا۔ اکبر یہ چاہتا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں میل ملاپ بڑھے۔ کیوں کہ مولانا حسین احمد مدنی کے الفاظ میں ’’اختلاط باعث عدم تنافر ہے، اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے اور تنافر باعث ضد اور ہٹ اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے، اور وہ اسلامی ترقی میں سدراہ ہونے والا ہے۔‘‘ مولانا حسین احمد مدنی نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اکبر نے جو پالیسی اختیار کی وہ دراصل برہمنوں کی اس کوشش کو ناکام کرنے کے لیے تھی جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page