Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کے تحت وہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے دور کرنا چاہتے تھے ۔ اور اس طرح اسلام کے توسیع کے عمل کو روکنا چاہتے تھے۔ مگر اکبری زمانہ کے علماء اس راز کو سمجھ نہ سکے اور اکبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے ۔ مولاناحسین احمد مدنی نے اکبر کے مخالفین کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ اگرچہ بہت سے اکبر سے بدظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے‘‘ ( مکتوبات شیخ الاسلام ، مکتوب نمبر 65 ، جلد 1 ، صفحہ 155 ، اعظم گڑھ 1952 ) ۔ مریم مکانی اگرچہ محل کے اندر رہتی تھیں مگر انھوں نے ماں کی حیثیت سے شہنشاہ اکبر پر گہرا اثر ڈالا ۔ انھوں نے اکبر کو ایک سادگی پسند اور دین دار بادشاہ بنا دیا۔ نیز مریم مکانی اتنی مدبر تھیں کہ وہ اکبر کی پالیسی کو اُس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھ سکیں ۔ جب کہ اس زمانہ سے لے کر اب تک کے مسلم اہل علم اس منصوبہ کی گہرائی کو سمجھ نہ سکے ۔ میرے علم کے مطابق ، اس عموم میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ مولانا حسین احمد مدنی کا ہے۔ زندگی کی تعمیر میں عورت کا کردار بے حد اہم ہے ۔ اس کردار کو کامیابی کے ساتھ نبھانے کے لیے ضروری ہے کہ عورت اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے ۔ زندگی کے بیشتر مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ضروری تیاری کے بغیر زندگی کے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ لوگ یہ جانتے ہیں تعلیمی سرٹیفیکٹ کے بغیر انہیں جاب مارکیٹ میں کوئی اچھی جگہ نہیں ملے گی اس لیے ہر ایک پہلے تعلیمی لیاقت پیدا کرتا ہے اور اس کے بعد وہ جاب مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے ۔ مگر زندگی گزارنے کے فن (art of living) کو سیکھے بغیر ہر ایک ، ہر عورت اور مرد زندگی کے میدان میں داخل ہورہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ اس کامیابی کو حاصل نہیں کرپاتے جو فطرت نے ان کے لیے مقدر کردیا ہے ۔ اکثر عورتوں اور مردوں میں یہ کمی ہوتی ہے کہ ان کو فطری طور پر وہ شخصیت ملی ہوئی نہیں ہوتی جس کو نفسیات کی اصطلاح میں متوازن شخصیت (balanced personality) کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page