Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

زوجین کا اصول

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اصول عورت اور مرد کی صورت میں انسان کے درمیان بھی موجود ہے۔ تاہم زوجین کا یہ معاملہ دونوں صنفوں کے درمیان صرف فرق (difference) کو بتاتا ہے، نہ کہ دونوں کے درمیان امتیاز (distinction) کو۔ یہ فرق اس لیے ہے تا کہ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے زندگی کے عمل کو بہتر طور پر انجام دیں۔ تاہم یہ ایک عالمی اصول ہے کہ کوئی کلیہ استثناء سے خالی نہیں۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر عموم میں ایک استثناء ہوتا ہے: Every rule has some exceptions یہ استثنائی اصول عورت اور مرد دونوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض عورتیں آپ کو ایسی دکھائی دیں گی جو بظاہر عورت ہونے کے باوجود مردوں جیسی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح بعض ایسے مرد آپ کو نظر آئیں گے جو بظاہر مرد ہوتے ہوئے عورت والی صفت کے حامل ہوں گے۔ اس قسم کا استثناء مردوں میں بھی پایا جاتا ہے اور عورتوں میں بھی۔ مگر اس استثناء کی بنیاد پر کوئی قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ قانون ہمیشہ عمومی صورت حال کو دیکھ کر بنایا جاتا ہے۔ استثنائی مثالیں عمومی قانون سازی کی بنیاد نہیں بن سکتیں ۔ دنیا میں انسان کو سوچنے اور کرنے کی آزادی دی گئی ہے، اس لیے یہ پوری طرح انسان کے امکان میں ہے کہ وہ جو چاہے سوچے اور جو چاہے کرے ۔ مگر یہ آزادی صرف ذاتی عمل کی حد تک ہے۔ جہاں تک نتیجہ کا معاملہ ہے، اس معاملہ میں انسان کو کوئی آزادی نہیں۔ نتیجہ بہر حال وہی نکلے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق نکلنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زوجین کے فطری اصول کو توڑنے کی آزادی بلاشبہ ہر عورت اور مرد کو ہے۔ مگر نتیجہ وہی نکلے گا جو کہ نکلنا چاہیے، نہ کہ وہ جس کی بطور خود امید رکھی گئی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page