Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

عورت ایک انٹیلکچول پارٹنر ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کر کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہیں تو یہ تعلق صرف شوہر اور بیوی کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ تعلق اتنا ہی وسیع ہے جتنا کہ خود زندگی وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق نے عورت اور مرد کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ پورے معنیٰ میں ایک دوسرے کے شریک حیات اور شریک معاملہ بنیں ۔ وہ ایک دوسرے کے کامل مددگار بن جائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْض (3:195)۔ یعنی خواہ مرد ہو یا عورت، دونوں ایک دوسرے کا جزء ہیں۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (9:71)۔ یعنی ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ اچھی بات کا حکم کرتے ہیں اور وہ بری بات سے منع کرتے ہیں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کے اندر خالق نے جو سب سے بڑی صفت رکھی ہے وہ نطق (speech) ہے۔ انسان کی انسانیت کا سب سے بڑا اظہار نطق کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت اور مرد جب زندگی میں ایک دوسرے کے مددگار اور شریک معاملہ ہیں تو اس تعلق کا اظہار یقینی طور پر سب سے زیادہ نطق کی سطح پر ہونا چاہیے۔ اگر ایک عورت اور ایک مرد نکاح کر کے ایک دوسرے کے شریک زندگی بنیں لیکن نطق کی سطح پر ان کے درمیان کوئی گہرا تعلق قائم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ صرف نچلی سطح پر شریک حیات بنے ہیں، وہ اعلیٰ سطح پر ایک دوسرے کے شریک زندگی نہ بن سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی شدہ زندگی کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں نطق کی سطح پر ایک دوسرے کے شریک بن جائیں۔ ان کے درمیان باہم گفتگو ہو۔ وہ مسائل میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page