عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے سے تبادلہ خیال کریں ۔ وہ ایک دوسرے کی صرف تعریف نہ کریں بلکہ وہ ایک دوسرے کے خیالات پر ناقدانہ اظہار رائے کریں تا کہ دونوں کی فکری سطح بلند ہو، معاملات کے نئے گوشے سامنے آئیں ۔ دونوں مل کر فکری ارتقاء کے سفر کے مسافر بن جائیں ۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں میں عورت اور مرد کے باہمی تعلق کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کا کم از کم ایک پہلو یہ بھی ہے ۔ یہ بلاشبہ دونوں کے باہمی تعلق کا ایک فطری تقاضا ہے ۔ بے زبان عورت اور بے زبان مرد کے درمیان اگر رشتہ نکاح قائم ہو تو ممکن نہیں کہ نطق کی سطح پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکیں ۔ لیکن ناطق عورت اور ناطق مرد کا تعلق بلاشبہ زندہ نطق کا تعلق ہے اور نطق کا یہ تعلق یقینی طور پر محدود نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹیلیکچول پارٹنر (intellectual partner) کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ او پر جو بات بیان کی گئی ، اس کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد عورت اور مرد دونوں اس پہلو سے اپنے آپ کو تیار کریں ۔ مطالعہ اور اکتساب علم کے ذرائع کو استعمال کر کے دونوں اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ وہ حقیقی طور پر ایک دوسرے کے لیے انٹیلیکچول پارٹنر (فکری رفیق) بن سکیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹیلیکچول پارٹنر شپ ایک آرٹ ہے ، اور یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خواتین کے لیے ڈومسٹک سائنس یا پروفیشنل ایجوکیشن سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہ انٹیلیکچول پارٹنر شپ کے آرٹ کو سیکھیں اور اس کی ماہر بنیں ۔ اسلام نے زندگی کا جو تصور دیا ہے اُس کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو بلاشبہ یہ بھی ہے ۔ اور زندگی کو پوری طرح خوشگوار بنانے کے لیے یہ بے حد اہم ہے ۔ سنت کی روشنی میں صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں عن ابی سلمہ عن عائشہ کے حوالہ سے ایک روایت آئی ہے ۔ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے پھر آپ فجر کی دو رکعت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader