عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
سنت ادا کرتے۔ اگر میں بیدار ہوتی تو آپ اس کے بعد مجھ سے گفتگو کرتے ورنہ لیٹ جاتے ۔ یہاں تک کہ تکبیر کی آواز آتی تو آپ نماز فجر کے لیے مسجد میں چلے جاتے : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يُؤذَّنَ بِالصَّلَاةِ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1167 )۔ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر )۔ ابن حجر العسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے بعض اور حوالوں کے ساتھ اس روایت کو کچھ دوسرے الفاظ میں بھی نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً نَامَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ( مسند احمد ، حدیث نمبر 24072 )۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ عائشہ صدیقہ سے رات کے آخری حصہ میں نمازِ فجر سے پہلے گفتگو فرماتے تھے۔ تاہم یہ گفتگو استثنائی طور پر صرف رات کو نہیں ہوسکتی۔ اس سے دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عام طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ کا معمول تھا کہ آپ عائشہ صدیقہ کے ساتھ دینی مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ اس روایت میں حَدَّثَنِی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مجھ سے حدیث بیان کرتے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب وہی ہے جس کو عام طور پر انٹلکچول اپیچ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے اور (اس طرح کی دوسری روایتوں سے ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت معلوم ہوتی ہے ۔ وہ سنت یہ ہے کہ عورت کو اپنا شریک ذہنی (intellectual partner) بنایا جائے۔ دین وملت کے مسائل پر گفتگو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader