Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

کر کے عورت کی ذہنی تربیت کی جائے ۔ یہاں تک کہ مرد کے ذہنی سفر میں وہ اُس کی برابر کی شریک بن سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ صدیقہ سے جو گفتگو کرتے تھے اُس کی پوری تفصیل تو آج موجود نہیں ۔ مگر بالواسطہ طور پر اُس کے نتیجہ کاریکارڈ حدیث کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، عائشہ صدیقہ سے 2210 روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں ۔ مگر دوسرے راویوں کی طرح ، یہ صرف اقوالِ رسول پر مبنی نہیں ہیں ۔ ان روایتوں کا بڑا حصہ وہ ہے جن کو استنباطاتِ عائشہ کہا جاتا ہے ، یعنی عائشہ صدیقہ کے اپنے مستنبط اقوال ۔ یہ استنباطات کیا ہیں ۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہاں اس کی ایک مثال درج کی جاتی ہے ۔ صحیح البخاری میں ایک روایت آئی ہے۔ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786) ۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔ عائشہ صدیقہ کی یہ روایت بتاتی ہے کہ طریق کار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کیا تھی ۔ وہ تھی آسان انتخاب (easier option) کو لینا اور مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دینا ۔ مثلاً نزاعی معاملہ میں متشددانہ طریقہ کار (violent method) کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار (peaceful method) کا انتخاب کرنا ، وغیرہ ۔ عائشہ صدیقہ کی یہ روایت اتنی اہم ہے کہ اس کو مدبّرانہ سیاست کا خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلح اسلامی تحریکیں سب کی سب ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔ اس کا واحد سبب بلاشبہ یہی ہے کہ ان تحریکوں میں عائشہ صدیقہ کی مذکورہ روایت سے استفادہ کرتے ہوئے پر امن طریقہ کار کو اختیار نہ کیا جا سکا۔ حالانکہ وہ پوری طرح قابل حصول تھا۔ عائشہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page