عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
صدیقہ کے مذکورہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ عائشہ صدیقہ کا ذاتی قول یا استنباط ہے۔ پھر عائشہ صدیقہ کو یہ اہم بات کیسے معلوم ہوئی ۔ یقینی طور پر ایسا ہوا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ صدیقہ کے درمیان بار بار وہی چیز پیش آئی ہوگی جس کو ہم نے تبادلہ خیال (intellectual exchange) کہا ہے۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھ کر ایسا نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ دوسرے صحابہ نے بھی آپ کے عمل کو بار بار دیکھا۔ مگر کسی اور صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پالیسی کے بارے میں مذکورہ بات نہیں کہی۔ یہ گہر افکر عائشہ صدیقہ کے ذہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار گفتگو کے بعد ہی واضح ہوا ہوگا۔ یہ بات اتنی کھلی ہوئی ہے کہ خود قرینہ ہی اس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ عائشہ صدیقہ کے جو استنباطات ہیں ان کی بنیاد کیا ہے۔ وہ کیسے اس قابل ہوئیں کہ وہ اتنے صحیح قسم کے شرعی استنباطات کر سکیں۔ اس کا راز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی وہ گفتگوئیں ہیں جو شب و روز اور سفر و حضر میں جاری رہتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ نہایت ذہین خاتون تھیں ۔ انہوں نے انخاذ طبیعت پائی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگوؤں سے وہ روح شریعت اور حقیقت اسلام کا علم حاصل کرتی رہتی تھیں۔ یہی وہ علم ہے جو استنباطات عائشہ کی صورت میں حدیثوں میں منقول ہوا ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ مذکورہ قسم کا استنباط سادہ طور پر نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بار بار گفتگو ہو، سوال و جواب ہو، دو طرفہ تبادلہ خیال ہو۔ اس طرح کے لمبے ذہنی عمل (intellectual process) کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات آدمی کے ذہن میں واضح ہو۔ وہ ایک متعین فکر کی صورت میں آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے جس کو وہ بعد میں وضوح (clarity) کے ساتھ بیان کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader