عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
عائشہ صدیقہ نے بہت سی ایسی باتیں کہی ہیں جو اُسی صورت میں یا انہی الفاظ کے ساتھ قرآن یا حدیث میں موجود ہیں۔ وہ تمام تر ان کے اپنے الفاظ میں ہیں۔ اس قسم کے اقوال کو استنباطات کہا جاتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ عائشہ صدیقہ کے یہ اقوال پیغمبر خدا کی مسلسل صحبت سے اکتساب فیض کے نتیجہ میں حاصل شدہ دینی بصیرت ہے۔ وہ دراصل استفادات ہیں نہ کہ محض استنباطات۔ اِس قسم کی گہری دینی بصیرت کی مثال عائشہ صدیقہ کے سوا کسی دوسرے مرد یا عورت کے یہاں نہیں ملتی۔ عائشہ صدیقہ نے اپنے مذکورہ قول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کو بتایا ہے۔ اور وہ ہے، نزاعی معاملات میں مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑنا اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لینا۔ یہ چھوٹا سا قول حکمت و بصیرت کا خزانہ ہے ۔ یہ عملی سیاست کا وہی اُصول ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مدبّرین نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: Politics is the art of the possible یہ اصول انتہائی گہری بصیرت پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال صلح حدیبیہ کی صورت میں ملتی ہے۔ یہ اصول اتنی زیادہ گہری دانش مندی پر مبنی ہے کہ عائشہ صدیقہ کے اس اعلان کے باوجود بعد کی صدیوں میں کوئی مسلم رہنما ایسا نظر نہیں آتا جو اس کو جانے اور اس کو استعمال کرے۔ بدقسمتی سے اس بے خبری کا سلسلہ اکیسویں صدی تک جاری ہے۔ موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ مسلم رہنماؤں کی بے فائدہ مسلح جنگ اسی بے خبری کا ایک ثبوت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے مواقع پوری طرح کھل چکے ہیں جس کی حیثیت بلا شبہ آسان انتخاب کی ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader