Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

باوجود مسلم رہنما غیر ضروری طور پر پر تشدد جنگ میں مشغول ہیں جو کہ واضح طور پر مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ محبت کے بغیر صرف قرآن و حدیث کو پڑھ کر بصیرت کا حصول کتنا زیادہ مشکل کام ہے، بلکہ شاید ممکن ہی نہیں۔ صحیح البخاری میں عائشہ صدیقہ کی ایک روایت آئی ہے۔ اس میں وہ کہتی ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے جو چیز نازل ہوئی وہ مفصل سورتیں تھیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے تو حرام اور حلال کے احکام اترے اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ اترتا کہ تم لوگ زنا نہ کرو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ جیسا کہ معلوم ہے، عائشہ صدیقہ کی سال پیدائش 613ء ہے، یعنی ہجرت سے نو سال قبل۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول 610ء میں شروع ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جب مکہ میں اترنا شروع ہوا، اس وقت عائشہ صدیقہ پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے وقت وہ صرف نو سال کی تھیں، یعنی اپنی بچپن کی عمر میں۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ عائشہ صدیقہ کو مکی دور کی آیتوں کے نزول کی حکمت کیسے معلوم ہوئی ۔ جب کہ اس وقت وہ یا تو پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں یا وہ ابھی بہت چھوٹی تھیں۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ ہجرت کے بعد جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلسل رہنے لگیں تو تبادلہ خیال کے دوران یہ مسائل زیر بحث آئے اور سوال و جواب کے ذریعہ ان کی وضاحت ہوئی ۔ گویا کہ مذکورہ واقعہ کا علم عائشہ صدیقہ کو ذاتی مشاہدہ کے ذریعہ نہیں ہوا بلکہ مہبط وحی کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کے ذریعہ ہوا۔ عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہ کر جو بات دریافت کی اور مذکورہ روایت میں اس کو بتایا، وہ بے حد اہم ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ اسلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page