عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقہ معاشرہ کی اصلاح کے لیے کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سوشل انجینئرنگ (social engineering) کا وہ طریقہ کیا ہے جس کے ذریعہ کسی معاشرہ میں مثبت اور حقیقی نتائج برآمد کیے جاسکتے ہیں اور انسانی معاشرہ میں حقیقی انقلاب لایا جا سکتا ہے ۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ پہلے فکری مہم کے ذریعہ افراد کے ذہن کو بدلنا اور پھر سماج کی سطح پر احکامِ شریعت کا نافذ کرنا۔ عجیب بات ہے کہ یہ حقیقت عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ صحبت میں جان لی تھی اور امت کو اس سے باخبر کر دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور مفکرین سارے قرآن و حدیث کو پڑھنے کے باوجود اس اہم حقیقت سے بے خبر ہے اور اب تک بے خبر ہیں۔ وہ ایک کے بعد ایک مسلم ملکوں میں اقتدار پر قبضہ کر کے اچانک اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہر بار یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کے الفاظ میں، لوگ یہ کہہ کر قبولیتِ احکام سے انکار کر دیتے ہیں کہ: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 )۔ اس ناکامی کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ ذہن سازی کا کام کیے بغیر احکام کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں دے کر ان کو اس حقیقت کی معرفت کا موقع دیا اور ان کی زبان سے اس کا اعلان کرایا۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ جذباتی سیاست میں اس طرح گم ہیں کہ اتنے بڑے اہتمام کے باوجود آج بھی وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ عائشہ بنت ابی بکر الصدیق مکہ میں ہجرت سے نو سال پہلے پیدا ہوئیں اور 67 سال کی عمر میں 58 ھ میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے آخری دس سالوں میں آپ کی اہلیہ کی حیثیت سے برابر آپ کے ساتھ رہیں۔ اس طرح ان کو یہ موقع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader