Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

ملا کہ وہ علم نبوت سے زیادہ سے زیادہ اکتساب کر سکیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قریبی تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ فکری حیثیت سے اسلام کا ایک ماخذ بن گئیں۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علم کے اعتبار سے خواتین اسلام میں سب سے زیادہ ممتاز تھیں: افقه نساء المسلمين و اعلمهن بالدين والأدب۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکابر صحابہ ان سے فرائض کے بارے میں پوچھتے تھے اور وہ ہر ایک کو اس کا جواب دیتی تھیں: وكان أكابر الصحابة يسألونهنا عن الفرائض فتجيبهم ۔ وہ روایت و حدیث کے بارے میں مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں : وكانت مرجحاً في الرواية والحديث (الاعلام للزركلی، جلد 3، صفحہ 240)۔ عائشہ صدیقہ کے اندر یہ اعلی صفت اپنے آپ پیدا نہیں ہوسکتی۔ وہ یقینی طور پر پیغمبر کے ساتھ مسلسل فکری استفادہ کا نتیجہ تھی۔ اسلام کا ایک اہم مطلوب وہ ہے جس کو اضافہ ایمان یا ازدیاد ایمان کہا گیا ہے۔ اس سے مراد ذہنی ارتقاء (intellectual development) ہے۔ یعنی دین اور تقویٰ کے اعتبار سے انسان کے اندر مسلسل اضافہ ہونا۔ آدمی کی ایمانی شخصیت میں مسلسل ارتقاء کا عمل جاری رہنا۔ ایمانی ارتقاء یا ذہنی اضافے کا یہ عمل مختلف ذرائع سے ہوتا ہے۔ قرآن میں تدبّر کرنا، اللہ کو یاد کرنا اور اس کے بارے میں غور و فکر کرنا، مخلوقات الہی کا مشاہدہ کرنا اور اُس کے حکیمانہ پہلوؤں کے بارے میں سوچنا۔ اس عمل کے دوران انسان کو ضرورت ہوتی ہے کہ اس نے دین کے بارے میں جو کچھ پایا ہے اس پر وہ کسی سے تبادلہ خیال (intellectual exchange) کرے۔ اس تبادلہ خیال کے دوران افکار کی وضاحت ہوتی ہے۔ معاملہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ اپنے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ تبادلہ خیال ذہنی ارتقاء کے لیے بے حد ضروری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page