عورت قرآن میں
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت قرآن میں قرآن میں انسان کی کامیابی کے لیے جو تعلیمات آئی ہیں وہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہیں۔ بظاہر اگرچہ ایسا ہے کہ بیشتر آیتیں مذکر کے صیغہ میں ہیں یعنی بظاہر اُن کا خطاب مرد سے ہے۔ مگر یہ ایک لفظی اسلوب کی بات ہے۔ ورنہ تغلیباً قرآن کی تمام تعلیمات دونوں ہی صنفوں سے اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے تعلق رکھتی ہیں۔ کوئی حکم بظاہر گرامر کے لحاظ سے مرد کو خطاب کرتا ہو تب بھی اپنے تو وسیعی مفہوم کے اعتبار سے یہ مانا جائے گا کہ اُس کا خطاب مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اُس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے وہ نکلنے والا نہیں ۔ اس طرح منکروں کی نظر میں اُن کے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں (6:122)۔ اس طرح کی بہت سی آیتیں قرآن میں ہیں جن میں قرآن کے مطلوب عقائد اور مطلوب اعمال کا ذکر ہے ۔ ان آیتوں میں بظاہر مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی گرامر کے لحاظ سے اس کا خطاب بظاہر مردوں سے معلوم ہوتا ہے ۔ مگر یہ تمام آیتیں عورتوں سے بھی اُسی طرح متعلق ہیں جس طرح وہ مردوں سے متعلق ہیں۔ تاہم زیر نظر باب میں منتخب طور پر صرف اُن قرآنی آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو مؤنث کے صیغہ میں آئی ہیں۔ جن میں گرامر کے اعتبار سے بھی خطاب براہ راست عورتوں سے ہے۔ قرآن میں بار بار عورت کا ذکر آیا ہے، کبھی ایک پہلو سے اور کبھی دوسرے پہلو سے۔ کبھی حیاتیاتی شخصیت کے اعتبار سے اور کبھی اجتماعی زندگی کے ایک رکن کی حیثیت سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader