عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تبادلہ خیال ہر شخص کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر کے بارے میں آیا ہے کہ وہ ہر ایک سے بات کر کے اُس سے کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے (کان يتعلم من كل احد)۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اس مقصد کے لیے کسی کو مستقل طور پر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ اس اعتبار سے کسی آدی کا مسلسل رفیق صرف ایک ہوسکتا ہے، اور وہ اُس کی بیوی ہے۔ ہر آدمی کی یہ ایک علمی اور دینی ضرورت ہے کہ وہ اپنی بیوی کو تعلیم و تربیت دے کر اس قابل بنائے کہ وہ حقیقی معنوں میں اس کی انٹلکچول پارٹنر (ذہنی رفیق) بن سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اہل اسلام کے لیے ہر اعتبار سے ایک کامل نمونہ ہیں ۔ چنانچہ آپ نے شریک حیات کی نسبت سے بھی لوگوں کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے۔ آپ کے اس نمونہ کا تعلق محدود طور پر صرف عائشہ صدیقہ سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق دوسری خواتین سے بھی ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو اس معاملہ کی وضاحت کے لیے ایک اچھی مثال ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی دور میں جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیوں کہ یہ معاہدہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں۔ چنانچہ لوگوں میں بہت زیادہ غم وغصہ تھا۔ معاہدہ کی تکمیل کے بعد آپ نے لوگوں کو بتایا کہ اب ہمیں مکہ نہیں جانا ہے بلکہ حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ جانا ہے۔ اس لیے قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو، ان کو یہیں ذبح کر دو اور سرمنڈالو۔ مگر کوئی بھی شخص اس کے لیے نہ اُٹھا۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی تمام لوگ خاموش رہے اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اُٹھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader