Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں ۔ انہوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر اس کا سبب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہیں اٹھا۔ ام سلمہ نے کہا: اے خدا کے رسول، اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی کا جانور ذبح کردیں اور اپنا سر حلق کروالیں۔ اس طرح لوگ جان لیں گے کہ بات ختم ہوگئی، اب کچھ اور ممکن نہیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کر سر منڈایا۔ اس کے بعد ہر ایک نے اُٹھ کر اپنی اپنی قربانی کے جانور ذبح کیے اور اپنا سر منڈالیا۔ اگر چہ ان کے رنج و غم کا حال یہ تھا کہ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کا سر کاٹ ڈالیں گے ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732 )۔ مذکورہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ۔ وہ دراصل اسی چیز کی ایک کامیاب مثال ہے جس کو ہم نے مرد اور عورت کے درمیان اٹلکوپول ایکسچینج (intellectual exchange) کا نام دیا ہے۔ یقیناً رسول اور زوجہ رسول کے درمیان اس موقع پر ایک مکمل گفتگو ہوئی ہوگی۔ اس کے بعد وہ صورت پیش آئی جس کا حدیث وسیرت کی کتابوں میں ذکر ہوا ہے۔ اس قسم کا حل ہمیشہ اس وقت سامنے آتا ہے جب کہ دو آدمی باہم گفتگو اور تبادلہ خیال کریں۔ اس طرح کا حل کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ دوطرفہ گفتگو کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ام سلمہ نے جو بات کہی وہ بے حد اہم تھی۔ اس میں یہ حکمت تھی کہ پیغمبر خود جب اپنا اونٹ ذبح کر دیں گے اور اپنا سر حلق کروالیں گے تو اس کے دیکھنے کے بعد وہاں کے موجود مسلمان یہ سمجھ لیں گے کہ اب معاملہ ختم ہو گیا۔ اب ہم لوگوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page