Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

عمرہ کے لیے مکہ کا سفر نہیں کرنا ہے بلکہ حدیبیہ ہی سے واپس ہو کر مدینہ جانا ہے۔ جب یہ بات عملاً لوگوں پر کھل جائے گی تو اس کے بعد لوگوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا کہ وہ حدیبیہ میں اپنی قربانی کا جانور ذبح کریں اور حلق کروالیں ۔ چنانچہ یہی ہوا کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قربانی کا جانور ذبح کر دیا تو دوسروں نے بھی اپنے جانور ذبح کر کے حلق کروالیا۔ ام سلمہ کے اندر یہ حکیمانہ فکر کیسے پیدا ہوئی ۔ یقیناً وہ پیغمبر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ اس اعتبار سے گویا ام سلمہ صرف زوجہ رسول نہیں بلکہ وہ مدرسہ نبوت کی ایک طالبہ تھیں ۔ اپنی اسی حیثیت کی بنا پر اُنہیں یہ حکمت حاصل ہوئی جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ اسلام میں زندگی کا جو فطری نقشہ بتایا گیا ہے اس کا ایک جزء بلاشبہ یہ بھی ہے۔ اسلام کے مطابق، ہر عورت اور مرد کو جو با مقصد زندگی گزارنی ہے، اس میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے صرف شریک خانہ نہیں ہیں بلکہ وہ پورے معنوں میں ایک دوسرے کے لیے شریک زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے عملی رفیق بھی ہیں اور اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے فکری رفیق بھی۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری مشیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان جس طرح ڈسکشن ہوسکتا ہے ویسا ڈسکشن کسی اور کے ساتھ ہونا سخت مشکل ہے ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے کتنا زیادہ اہم ہیں ۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی لازمی ضرورت ہیں۔ ایک عورت اور ایک مرد جب ازدواجی رشتہ کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق قائم کرتے ہیں تو گویا کہ دونوں اپنے لیے فطری انداز میں وہ ساتھی پا لیتے ہیں جن میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page