Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہر ایک دوسرے کو سمجھے اور ہر ایک دوسرے کا انٹیلکچول پارٹنر بن جائے۔ اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ شادی شدہ زندگی کو ہر حال میں نبھانا چاہیے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو طلاق کی حد تک نہیں جانے دینا چاہیے۔ شادی شدہ زندگی شروع کرنے کے بعد گویا عورت اور مرد اپنی ایک تاریخ شروع کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں طلاق اور تفریق کی حیثیت گویا بریک ان ہسٹری (break in history) جیسی ہے۔ لوگ اگر اس حقیقت کو جانیں تو وہ طلاق کی صورت میں بریک ان ہسٹری کے مہلک انجام سے اس طرح بچیں جس طرح ایک سرکاری ملازم ایک ایسے فعل سے بچنے کا اہتمام کرتا ہے جو اس کے لیے بریک ان سروس (break in service) کے ہم معنی ہو۔ عورت اور مرد کے درمیان اس قیمتی تعلق کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں اس معاملہ میں باشعور ہوں۔ نفسیات بتاتی ہے کہ اس باہمی تعلق کو قائم کرنے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ مرد کی طرف سے اس کی بڑھی ہوئی انانیت ہے، اور عورت کی طرف سے اس کی بڑھی ہوئی انفرادیت (individuality)۔ ضروری ہے کہ دونوں اس معاملہ میں اپنی اپنی کمزوری سے واقف ہوں۔ مرد اپنی انا پر کنٹرول کرے اور عورت اپنی انفرادیت کو اس کی حد کے اندر رکھے۔ یہ دونوں کے لیے گویا نفسیاتی مینجمنٹ (management) کا معاملہ ہے۔ یہی وہ تدبیر ہے جس کے ذریعہ دونوں اپنی ذاتی زندگی کو بھی مفید بنا سکتے ہیں اور سماج کے لیے بھی زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page