عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت معمار انسانیت قرآن میں حج کے تذکرہ کے تحت ارشاد ہوا ہے: صفا اور مروہ بے شک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ پس جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا (2:158) ۔ آیت میں شعیرہ (جمع شعائر) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شعیرہ کے لفظی معنی یادگار یا نشانی (symbol) کے ہیں۔ اس بیان کے مطابق ، صفا اور مروہ خدا کی دو نشانیاں ہیں ۔ وہ ایک خدائی واقعہ کی یاد دلاتی ہیں۔ اسی یاد کو تازہ کرنے کے لیے حکم دیا گیا کہ جو عورت یا مرد حج یا عمرہ کے لیے مکہ جائے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے۔ صفا اور مروہ مکہ کے قریب دو چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔ دونوں کے درمیان تقریباً 7 فرلانگ کا فاصلہ ہے۔ اب سے چار ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ خدا کے پیغمبر ابراہیم یہاں آئے ۔ ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہوئے آخر میں مکہ پہنچے۔ یہاں اس وقت صحرا اور خشک پہاڑی کے سوا کچھ نہ تھا۔ کوئی انسانی آبادی یہاں موجود نہ تھی ۔ ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے تحت اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بچہ اسماعیل کو یہاں مکہ کے قریب لا کر چھوڑ دیا اور واپس چلے گئے۔ ان کے ساتھ صرف ایک مشک کے بقدر پانی تھا۔ چند دن کے بعد جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں ۔ اس تلاش کے تحت انھوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے ۔ سات چکر کے بعد وہ مایوس ہو کر واپس آئیں تو دیکھا کہ بچہ کے پاس پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا ہے۔ یہ وہی چشمہ تھا جو بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader