Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

صفا اور مروہ کے درمیان ہاجرہ کا سات بار سعی کرنا ایک بڑے مقصد کے تحت تھا۔ چنانچہ وہ خدا کو اتنا زیادہ قابلِ قدر معلوم ہوا کہ اس نے حکم دے دیا کہ جو لوگ بھی دنیا کے کسی حصہ سے حج اور عمرہ کی عالمی عبادت کے لیے یہاں آئیں وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات بار سعی کریں، جیسا کہ ہاجرہ نے کیا تھا۔ چنانچہ آج تک یہ طریقہ حج اور عمرہ کے ساتھ جاری ہے۔ یہ سعی ہر مرد عورت اور ہر چھوٹے اور بڑے کو کرنی پڑتی ہے۔ اس میں کسی بھی مرد یا عورت کا استثنا نہیں۔ ہاجرہ کے اس فعل کی کیا اہمیت تھی کہ تمام دنیا کے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہاجرہ کے نقشِ قدم (footstep) پر چلیں۔ وہ اہمیت ہاجرہ کے اس غیر معمولی کام کی تھی جس کے لیے ابراہیم نے ان کو اس غیر آباد مقام پر بسایا تھا۔ وہ کام تھا، اپنی زندگی کو قربان کر کے ایک نئی نسل تیار کرنا۔ مکہ کا یہ غیر آباد علاقہ دراصل ایک صحرائی تربیت گاہ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ تمدن کی آمیزشوں سے پاک اس مقام پر ایک نئی انسانی نسل تیار ہو۔ ایک ایسی نسل جو فطرت کے ماحول میں تربیت پائے۔ جو سادگی اور حقیقت پسندی اور اخلاقی بلندی کی صفات سے متصف ہو۔ جو پوری طرح اپنے پیدائشی مزاج پر پرورش پائے اور پھر اپنے محفوظ انسانی اوصاف کی بنا پر خدا کے دین کی حامل بن سکے۔ بنو اسماعیل اسی تربیت یافتہ نسل سے تعلق رکھتے تھے جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور وہ تمام قیمتی انسان پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اس ابراہیمی منصوبہ کے ذریعہ دراصل یہ بتایا گیا کہ عورت کا رول انسانی تاریخ میں کیا ہے۔ وہ رول انسانی نسلوں کی تربیت ہے۔ یعنی ہر ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو تیار کرتا۔ پرانے خون (old blood) میں نئے خون (new blood) کا اضافہ کرنا، تاکہ انسانی نسل ایک بہتی ہوئی دریا کی مانند ہو نہ کہ کسی بند پانی کی مانند۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page