عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ معلوم ہے، انسان بچے کی صورت میں پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ بوڑھا ہو کر سال کے اندر مر جاتا ہے۔ یہی ہر عورت اور ہر مرد کا معاملہ ہے۔ اس تخلیقی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ تمام انسان اپنے ابتدائی دور میں بچے کی صورت میں اپنی ماؤں کی تحویل میں ہوتے ہیں۔ بچپن کی یہ عمر ہر آدمی کے لیے تیاری کا زمانہ (preparatory period) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ آدمی کی ذہن سازی (conditioning) کا دور ہوتا ہے۔ اس ابتدائی دور میں عورت اور مرد جیسے بن جاتے ہیں ویسے ہی وہ آخر تک باقی رہے ہیں۔ فطرت کے نظام میں ابتدائی عمر کا یہ مرحلہ ماں کی صورت میں عورت کو دیا گیا ہے۔ عورت ماں اور سر پرست کی صورت میں ابتدائی عمر کے تمام انسانی مجموعہ کی امین ہے۔ اس کو یہ فریضہ سونپا گیا ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں انسان کے اندر وہ مزاج اور وہ سیرت اور وہ اخلاق پیدا کرے جس کے نتیجہ میں ہر انسان اپنے سماج کا صالح ممبر بن سکے۔ پیغمبر ابراہیم کی زوجہ ہاجرہ نے عورت کے اسی منصوبہ بند کردار کا ایک اعلیٰ تاریخی نمونہ قائم کیا۔ ہاجرہ کی غیر معمولی قربانی نے تاریخ بشری میں پہلی بار وہ قیمتی انسان تیار کئے جو پیغمبر آخر الزماں کے لیے ایک قابل اعتماد ٹیم بن سکے اور تاریخ انسانی میں وہ انقلاب بر پا کرے جس کو مسلمہ طور پر سب سے بڑا انقلاب مانا جاتا ہے۔ حج اور عمرہ کی عالمی عبادت میں ہاجرہ کے نقش قدم پر سعی کرنے کا مستقل طریقہ اسی لیے مقرر کیا گیا تا کہ بعد کی نسلوں کو یہ سبق دیا جائے کہ اسی نمونے کو آئندہ بھی مسلسل دہراتے رہنا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ چنانچہ اسلام کی پوری تاریخ میں اس طریقہ پر عمل جاری رہا۔ اس عمل کی صورت تھی کہ ہر گھر کو، قرآن کے الفاظ میں، قبلہ (10:87) کی حیثیت دے دی جائے۔ اس ہدایت کے تحت یہ ہوا کہ ہر گھر ایک تعلیمی ادارہ (educational institution) اور تربیتی مرکز (training centre) بن گیا۔ اب جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader