عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
بچّہ پیدا ہوتا وہ اپنی ماں کی سرپرستی میں رات دن تعلیم و تربیت حاصل کرتا۔ ہر بچّہ اپنے مرحلہ تیاری (preparatory period) میں شعوری اور غیرشعوری طور پر وہ انسان بنتا رہتا جو ایک صحت مند معاشرہ کو درکار ہوتا ہے۔ نسل انسانی کی اس تربیت کا سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آغاز اسلام کے بعد ہزار سال تک سماج میں کبھی وہ بگاڑ نہیں آیا جس کا مشاہدہ آج ہو رہا ہے۔ اس لمبی مدت کے دوران گھر یلو تربیت کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ اخلاقی اقدار (moral values) سماجی روایات میں شامل ہوگئیں۔ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیرشعوری طور پر کچھ انسانی قدروں کا پابند بنا رہا۔ خاندانی اور سماجی روایات کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی ان انسانی قدروں سے بغاوت کی ہمت نہ کرتا تھا۔ مگر اب یہ صورت حال بدل چکی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جدید صنعتی انقلاب (industrial revolution) نے زندگی کا نقشہ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں گھر کا وہ ادارہ ٹوٹ پھوٹ گیا جو انسان کی اخلاقی تشکیل کرتا تھا، جو مسلسل طور پر سماج کو تربیت یافتہ انسان فراہم کرنے کا کام کر رہا تھا۔ اسلام کے ظہور کے بعد ایک ہزار سال تک دنیا میں زرعی دور قائم رہا۔ اس زمانہ کی اقتصادیات مبنی بر زمین اقتصادیات (land-based economy) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس معاشی نظام کے تحت ہر خاندان اپنی زمین سے جڑا رہتا تھا۔ اس بنا پر خاندانی انتشار کی وہ صورت پیش نہیں آتی تھی جو آج عمومی طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ صنعتی انقلاب نے معاشیات کی بنیاد کو زمین سے ہٹا کر مختلف شعبوں میں پھیلا دیا۔ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ روایتی تعلیم کی اہمیت ختم ہوگئی۔ اب جدید صنعتی ضرورتوں کے تحت سائنسی تعلیم اور ٹیکنیکل تعلیم کا رواج بڑھ گیا جس نے قدیم تعلیمی تصور کو بالکل بدل دیا۔ اب معاشی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader