Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

ترقی کے لیے ضروری ہو گیا کہ آدمی اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کرے ۔ وہ سرٹیفیکٹ اور ڈگری کے اعتبار سے اپنے آپ کو تعلیم یافتہ ثابت کرے۔ دور کی اس تبدیلی نے ہر گھر کی قدیم حیثیت ختم کردی۔ پہلے یہ تھا کہ ہر گھر، عورت کے انتظام کے تحت تعلیم کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ہر گھر نسل انسانی کی تربیت گاہ کا کام کر رہا تھا۔ مگر نئے دور نے اس روایتی تعلیم کی اہمیت گھٹا دی۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگا کہ اپنے بچے کو چھوٹی عمر ہی میں نرسری یا اسکول میں داخل کرے۔ اس تبدیلی نے انسانی معاشرہ کو یکسر بدل دیا۔ اب ایسے نوجوان پیدا ہونے لگے جو اخلاقی قدروں سے آزاد تھے۔ وہ صرف اپنی خواہش کو جانتے تھے نہ کسی اصول یا معیار کو ۔ آج ہمارا پورا معاشرہ اسی قسم کا ایک جنگل بنا ہوا ہے۔ تاہم اس صورت حال میں مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ حالات کو سمجھ کر اس کے مطابق نئی منصوبہ بندی کی جائے ۔ قدیم ٹوٹے ہوئے نظام تربیت کوئی صورت میں قائم کر دیا جائے ۔ حضرت ہاجرہ کے زمانہ میں انسانی تربیت کا جو مدرسہ بنایا گیا وہ مبنی بر صحرا (desert-based) مدرسہ تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد اس مقصد کے لیے جو مدرسہ بنا وہ مبنی بر خانہ (home-based) مدرسہ تھا۔ اب ضرورت ہے کہ اس تربیتی نظام کو دوبارہ مبنی براسکول (school-based) نہج پر قائم کیا جائے ۔ تربیت انسانی کا مطلوب کام پہلے صحرا کے ماحول میں کیا گیا۔ یہ سلسلہ دو ہزار سال سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس کے بعد تربیت انسانی کا یہ کام گھر کے ماحول میں کیا گیا جو تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اب ضرورت ہے کہ اس اہم کام کو اسکول کے ماحول میں دوبارہ جاری کر دیا جائے۔ زمانہ کی یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ جدید دور میں جو کچھ ہوا ہے وہ صرف یہ کہ اس نے عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page