Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مقام عمل (work place) کو بدل دیا ہے۔ نسل انسانی کی تربیت کے لیے عورت کی یہ فطری ذمہ داری ہے۔ اس لحاظ سے اس کے مقام کا مقام اب خصوصی طور پر اسکول بن گیا ہے۔ جدید تقاضوں نے یہ کیا ہے کہ اب انسان کی پوری نسل گھر سے نکل کر اسکول میں آ جاتی ہے۔ اس لیے اب اسکول ہی وہ مقام ہے جس کا چارج لے کر عورت اپنی فطری ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔ خالق کو عورت سے یہ مطلوب ہے کہ وہ نسل انسانی کی ابتدائی تربیت کرے۔ اس کے لیے عورت کو فطری طور پر ایسا بنایا گیا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو بخوبی طور پر ادا کر سکے۔ عورت کے اندر نرمی اور شفقت اور صبر اور جذباتی تعلق جیسی صفات دی گئی ہیں جو اس کام کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ قدیم زمانہ میں ہی فطری اوصاف ہی کافی تھے کہ عورت اپنے مفوضہ کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکے۔ مگر اب جدید حالات میں صرف یہ فطری اوصاف کافی نہیں۔ اب ضرورت ہے کہ عورت باقاعدہ طور پر ڈگری والی تعلیم حاصل کرے ۔ وہ جدید علوم سے آشنا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ جدید معنوں میں تعلیمی تربیت (educational training) حاصل کرے ۔ وہ ڈگری کے مانے ہوئے معیار پر یہ ثابت کرے کہ وہ اسکول کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی اہل ہے۔ وہ آج بھی اپنے اس فریضہ کو ٹھیک اسی طرح ادا کر سکتی ہے جس طرح وہ اس سے پہلے زرعی دور میں کامیابی کے ساتھ ادا کر رہی تھی۔ جدید نسلوں کو اخلاقی انارکی (moral anarchy) سے بچانے کی یہی واحد صورت ہے۔ خواتین کو جاننا چاہیے کہ اب ان کا مقام عمل (work place) نہ صحرا ہے اور نہ گھر۔ بلکہ اب وہ بنیادی طور پر اسکول ہے۔ اب ان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی تیاری ان جدید تقاضوں کے مطابق کریں۔ وہ جدید تعلیم حاصل کریں۔ تعلیمی اعتبار سے اپنے آپ کو تربیت یافتہ ٹیچر (trained teacher) ثابت کریں۔ اس طرح خواتین دوبارہ نئے نظام میں معمار انسانیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page