عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
بن جائیں گی جس طرح اس سے پہلے وہ قدیم نظام میں معمار انسانیت بنی ہوئی تھیں۔ 24 اپریل 2004 کو دہلی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں ایک مسلم پروفیسر بھی شامل تھے۔ چائے کی میز پر گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میری زندگی کی تعمیر میں میری ماں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ 1967 میں میں نے میٹرک پاس کیا۔ میرے گھر کے معاشی حالات اچھے نہ تھے۔ میں آگے پڑھنا چاہتا تھا، مگر میرے باپ نے کہا کہ اب وہ مزید تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے اب مجھے تعلیم کا خیال چھوڑ کر کوئی معاشی کام کرنا چاہیے۔ مگر میں اپنے آپ کو اس کے لیے تیار نہیں پا تا تھا کہ تعلیم کا سلسلہ چھوڑ دوں۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگلے تعلیمی مرحلہ میں داخلے کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی میری جیب میں پیسہ نہیں تھا۔ میری ماں نے میرے شوق کو دیکھ کر کہا کہ میرے تمام زیورات فروخت ہو چکے ہیں۔ میرے پاس اب صرف کان کی ایک بالی موجود ہے وہ میں تم کو دیتی ہوں تم اس کو بیچ کر اس سے اپنی فیس ادا کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ سونے کی اس بالی کو لے کر میں بازار میں گیا۔ وہاں مجھے اس کے 80 روپے ملے۔ اس روپے سے میں نے داخلہ کی فیس ادا کی اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران بہت سے اونچ نیچ پیش آئے۔ مگر میری ماں ہر مرحلہ میں میری ہمت بندھاتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے تعلیم مکمل کرلی اور اب میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔ جس کامیاب آدمی سے بھی آپ پوچھئے وہ بتائے گا کہ میری زندگی کی تعمیر میں میری ماں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ میری کامیابی کا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا ہے تو وہ صرف میری ماں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت، ماں کے روپ میں ہر انسان کی سب سے بڑی مددگار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader