Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ہر انسان کی ترقی میں سب سے زیادہ مؤثر رول ادا کر رہی ہے۔ ماں کی حیثیت سے عورت کا یہ کردار اتنا زیادہ عام ہے کہ ہر آدمی اپنے ذاتی تجربہ سے اس کو جانتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر ماں ہر جگہ اور ہر دور میں اپنا یہ رول ادا کرتی رہی ہے۔ اسلام اسی فطری حقیقت پر گویا ایک اضافہ ہے۔ اسلام عورت کے اندر ایک آفاقی ذہن پیدا کرتا ہے۔ اسلام کا مدعا یہ ہے کہ عورت صرف معمار فرزند نہ رہے بلکہ وہ معمار انسانیت بن جائے ۔ وہ فطرت کی دی ہوئی نسوانی صلاحیت اپنے بیٹے اور بیٹی تک محدود نہ رکھے بلکہ وہ اس کو پوری نوع انسانی کے لیے خیر کا ذریعہ بنا دے۔ عورت کو خدا نے معمار انسانیت بنا کر پیدا کیا ہے۔ یہ عورت کا کمتر استعمال ہوگا کہ اس کو صرف معمار فرزند تک محدود کر دیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں ڈگری والی تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر جگہ جاب کے لیے ڈگری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس نئی صورت حال نے اسکول تعلیم (schooling) کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ کیوں کہ اسکول کی تعلیم جتنی زیادہ اچھی ہوگی اتنی ہی زیادہ آگے کی تعلیم اچھی ہو سکے گی۔ اس نئی صورت حال نے عورتوں کے لیے مخصوص اسباب سے ایک بہت بڑا جاب مارکیٹ پیدا کر دیا ہے۔ اور وہ ٹیچنگ کا کام ہے۔ آج عورتیں بہت بڑے پیمانہ پر ٹیچنگ کے کام میں نظر آتی ہیں۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ عورتیں زیادہ کامیاب اسکول ٹیچر ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح گویا موجودہ زمانہ کی خواتین عملاً اپنے اس مقام عمل (work place) میں پہنچ چکی ہیں جو ان کے لیے فطرت نے مقدر کیا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں خواتین اس کام کو زیادہ تر پریفیشن کے طور پر کرتی ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ وہ ٹیچنگ کے اس جاب کو مشن کے طور پر انجام دینے لگیں۔ وہ پروفیشن ٹیچر کے بجائے مشنری ٹیچر بن جائیں اور اس کے بعد انسانی نسل کی تربیت کا وہ کام اپنے آپ ہونے لگے گا جو آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page