عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
چند خواتین کی مثال زیر نظر کتاب کا خاص مقصد عورت کے مثبت کردار (positive role) کو بتانا ہے۔ اس مقصد کے لیے کتاب میں نظریاتی ماڈل بھی پیش کئے گئے ہیں اور اسی کے ساتھ تاریخ کی عملی مثالیں بھی ۔ اب اس باب میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ عورت کے بارے میں مصنف نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے وہ اس کا اپنا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اس سلسلہ میں مجھ کو جن خواتین کا تجربہ ہوا، ان میں سے کچھ خواتین کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ زیب النساء اس سلسلہ میں پہلا نام میری والدہ زیب النساء کا ہے۔ وہ ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے ایک گاؤں سنجر پور میں انیسویں صدی کے آخر میں پیدا ہوئیں اور 18 اکتوبر 1985 میں دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ جب کہ ان کی عمر سو سال کے قریب ہو چکی تھی۔ میری والدہ کی تعلیم اگرچہ بہت معمولی تھی، مگر وہ نہایت ذہین اور جرات مند خاتون تھیں۔ قدیم خواتین کی طرح تمام شریفانہ اوصاف ان کے اندر مکمل طور پر موجود تھے۔ میری والدہ میں وہ تمام اخلاقی خوبیاں درجہ کمال میں پائی جاتی تھیں جو قدیم زمانہ کی خواتین کا خاصہ ہوا کرتی تھیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کے اندر ایک استثنائی صفت موجود تھی جو عام طور پر ماؤں کے اندر نہیں ہوتی۔ اور وہ ہے، اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ نہ کرنا۔ وہ ہم لوگوں کو مارتی نہیں تھیں مگر عام ماؤں والاڈ پیار بھی نہیں کرتی تھیں ۔ وہ اپنے بارے میں اکثر کہتی تھیں کہ میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ ڈانٹ کر رکھا۔ والدہ کی یہ دو طرفہ صفت میرے بہت کام آئی۔ اسی بنا پر ممکن ہوا کہ وہ اعلیٰ سطح پر میری کردار سازی کرسکیں۔ تعلیم کی کمی کی بنا پر وہ اگرچہ کردار سازی یا کیریکٹر بلڈنگ کے الفاظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader