عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
سے واقف نہ تھیں ۔ مگر یہ صفت فطری طور پر ان کے اندر کامل درجہ میں پائی جاتی تھی۔ اخلاقی معاملات میں وہ نہایت سختی کے ساتھ میری نگرانی کرتی تھیں۔ انہوں نے تقریباً منصوبہ بند انداز میں میرے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ مثلاً محنت اور تواضع کی صفت پیدا کرنے کے لیے انھوں نے دو بکری خریدی اور مجھے اس کے چرانے کے کام پر لگا دیا۔ والدہ کے اسی مزاج کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ مجھے اپنے بچپن میں یہ نسبت بھی حاصل ہوئی کہ میں نے بکریاں چرائیں۔ میری والدہ کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولیں ۔ انہوں نے کبھی منافقانہ انداز اختیار نہیں کیا۔ اصولی معاملات میں ان کا رویہ ہمیشہ غیر مصالحتانہ ہوا کرتا تھا۔ وہ سخت محنت کرتی تھیں مگر انھوں نے کبھی کسی سے کسی چیز کو مانگنا پسند نہیں کیا۔ ان کی صاف گوئی کا یہ حال تھا کہ کوئی بھی آدمی اُنہیں اس سے روک نہیں سکتا تھا کہ وہ بات کو کھلے طور پر اس کی بے آمیز صورت میں بیان کر دیں۔ وہ اخلاق فاضلہ کے الفاظ سے نا آشنا تھیں۔ مگر عملاً یہ حال تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی اخلاق فاضلہ کا پیکر بنی رہیں ۔ اپنے مزاج کی بنا پر انہیں ہمارے مادی مستقبل کی زیادہ پروا نہیں ہوتی تھی ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، انہوں نے بھی مجھ سے کمانے کی بات نہیں کی۔ مگر جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے، وہ نہایت سختی کے ساتھ اس کی نگرانی کرتی تھیں ۔ وہ رات اور دن میرے اوپر اخلاقی محاسب بنی رہتی تھیں۔ وہ کبھی اس کو برداشت نہیں کرتی تھیں کہ ان کے بچوں کے اندر ادنیٰ درجہ میں بھی پست کرداری جیسی کوئی بات پیدا ہو۔ میرے والد فرید الدین خاں کا انتقال میرے بچپن میں 30 دسمبر 1929 کو ہوا۔ میں اپنی پیدائش (1924ء) سے لے کر تقریباً پندرہ سال تک ان کے ساتھ گاؤں میں رہا۔ گویا میری تیاری کی مدت (formative period) پوری کی پوری اپنی ماں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader