عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ گذری ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ میرے اندر وہ انسانی اوصاف طبیعتِ ثانیہ کے درجہ میں پیدا ہو گئے جن کو قدیم عربوں میں المروءة کہا جاتا تھا۔ اسی تربیت کا یہ نتیجہ تھا کہ میں ایک اصول پسند انسان بن گیا۔ جھوٹ بولنا مجھے انسانیت سے کمتر درجہ کی چیز دکھائی دینے لگی۔ دیانت داری (honesty) میرا عمومی مزاج بن گیا۔ حقیقت پسندی میرے مزاج کا لازمی حصہ بن گئی۔ میں ایک اعتراف پسند انسان بن گیا، ایک ایسا انسان جو بے اعترافی کا تحمّل نہ کر سکے۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ اپنی والدہ کی طرف سے مجھے اپنے بچپن میں وہ چیز ملی جس کو حدیث میں خِيَارُكُم فِی الْجَاهِلِيَّة (مسند احمد، حدیث نمبر 10295) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ میری والدہ کے اندر جو اخلاقی صفات تھیں وہ قدیم زمانہ میں خواتین کے اندر عام طور پر ہوا کرتی تھیں۔ اس معاملہ میں میری والدہ کی حیثیت کسی استثنائی خاتون کی نہ تھی۔ مگر ایک معاملہ میں وہ ضرور استثنائی خاتون کی حیثیت رکھتی تھیں۔ وہ یہ کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کبھی نہیں کرتی تھیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ ان کو وہی محبت تھی جو ہر ماں کو ہوتی ہے۔ مگر وہ اس بات کو بھی جانتی تھیں کہ لاڈ پیار بچوں کو صرف بگاڑتا ہے۔ چنانچہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کا معاملہ مکمل طور پر ایک حقیقت پسند ماں جیسا ہوتا تھا۔ وہ اپنے بارے میں اکثر کہتی تھیں کہ، میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ ڈانٹ کر رکھا۔ میری والدہ کی یہی وہ استثنائی صفت ہے جس نے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ میرے لیے ایک کردار ساز ماں کا رول ادا کر سکیں۔ ایک ربانی مشن کو چلانے کے لیے ایسی شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے اندر مکمل طور غیر مصالحانہ مزاج ہو۔ اس کے اندر کامل حقیقت پسندی ہو۔ اصول کے معاملہ میں اس کی حسّاسیت بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو۔ اس کے اندر استحصال (exploitation) کا مزاج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader