Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

بالکل نہ پایا جاتا ہو۔ انسانیت کے حق میں اس کے دل میں شفقت اور خیر خواہی کے جذبات بھرے ہوئے ہوں۔ مادی حقیقتوں کے مقابلہ میں غیر مادی حقیقتیں اس کو زیادہ اہم دکھائی دیں۔ حق کے معاملہ میں وہ کسی کی ملامت کی پروانہ کرے۔ کوئی بھی مادی انٹرسٹ اسے اُس کے راستے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ لوگوں سے منفی رویہ کے باوجود وہ ہمیشہ مثبت رویہ پر قائم رہے۔ کسی بھی حال میں وہ بے اعترافی کا تحمّل نہ کر سکتا ہو۔ تحدیث نعمت کے طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ والدہ کی تربیت نے میرے اندر مذکورہ صفات بخوبی طور پر پیدا کر دیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، میری والدہ معمولی تعلیم یافتہ تھیں ۔ ان کی زندگی گاؤں کے ماحول میں گزری۔ اس لیے وہ مذکورہ قسم کے اخلاقی اوصاف کی اہمیت کو شعوری طور پر نہیں جانتی تھیں۔ انہوں نے صرف اپنے پیدائشی مزاج کے تحت میری شخصیت کو اس انداز پر ڈھالنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ اگر والدہ نے اس نہج پر میری شخصیت سازی نہ کی ہوتی تو میں ہرگز اس قابل نہ بنتا کہ میں اس دعوتی اور تعمیری مشن کو چلا سکوں جس کو میں نے اپنا مقصد حیات بنایا ہے۔ الرساله مشن جیسا دعوتی مشن ہمیشہ اعلیٰ کردار کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ کردار کی دو قسمیں ہیں ۔ مخلصانہ کردار اور منافقانہ کردار۔ منافقانہ کردار کی بنیاد پر ایک سیاسی کاروبار تو کیا جا سکتا ہے مگر ایک سچا مشن صرف مخلصانہ کردار کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اعلیٰ کردار کے بغیر ایک سچے مشن کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اعلیٰ کردار نہیں تو مشن بھی نہیں۔ میرے تجربے کے مطابق، ہر ماں امکانی طور پر انہی اوصاف کی حامل ہوتی ہے جن کا ذکر میں نے اپنی ماں کے حوالہ سے کیا ہے۔ مگر ماؤں کی ایک عمومی کمزوری نے انہیں محروم کر دیا کہ وہ اپنی اولاد کے حق میں وہ تعمیری کردار ادا کر سکیں جو میری ماں نے میرے حق میں ادا کیا۔ یہ کمزوری وہی ہے جس کو لاڈ پیار (pampering) کہا جاتا ہے۔ ہر ماں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page