Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اپنے بچے سے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ میری والدہ میں یہ صفت تھی کہ وہ اپنی محبت کو اپنی عقل کے تابع رکھتی تھیں۔ اس لیے وہ لاڈ پیار کی تباہ کن غلطی سے بچی رہیں۔ میرا احساس ہے کہ اگر مائیں صرف اپنی اس کمزوری پر قابو پالیں تو وہ اپنی عمر ہی میں ایک نئی جنریشن پیدا کر سکتی ہیں، ایک ایسی جنریشن جو ایسے انسانوں پر مشتمل ہو جو صالح سماج بنانے کے لیے درکار ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تمام انسان اپنی عمر کے مرحلہ تیاری (formative period) میں ماؤں کے زیر تربیت ہوتے ہیں۔ یہ مائیں ان کو جیسا چاہیں ویسا بنا دیں۔ انسانیت کے نظام میں فطرت نے گویا انسان سازی کا چارج ماؤں کے سپرد کیا ہے اور اس کے مطابق انہیں ضروری صلاحیتیں بھی عطا کی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ذاتی طور پر اس حقیقت کا تجربہ کیا ہے۔ میرے نزدیک ہر ماں فطری طور پر ان مطلوب اوصاف کی حامل ہوتی ہے۔ مگر صرف ایک چیز ہے جس نے ماؤں کو اپنے اس تعمیری کردار کی ادائیگی سے محروم کر رکھا ہے، اور وہ ہے ماؤں کا اولاد کے لیے غیر ضروری لاڈ پیار۔ سابعہ خاتون اس سلسلہ میں دوسرا قابل ذکر نام میری اہلیہ سابعہ خاتون کا ہے۔ اب ان کی عمر 76 سال ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھ میری شادی 1942 میں ہوئی ۔ یہ شادی میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل (وفات 1955ء) نے کرائی تھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس سال میری شادی ہوئی عین اسی سال میری زندگی میں ایک طوفانی دور شروع ہو گیا۔ یہ تلاشِ حقیقت کا دور تھا۔ میں حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ غیر منصوبہ بند انداز میں ادھر اُدھر بھاگنے لگا۔ تلاش کا یہ دور تقریباً پانچ سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1948 میں میں نے اسلام کو ایک کامل صداقت کے طور پر از سرِ نو دریافت کیا۔ تاہم یہ دریافت میری اہلیہ کے لیے کوئی خوش آئند پیغام نہ تھی ۔ میں دوبارہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page