عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
طویل سرگرمی میں مشغول ہو گیا۔ یعنی میں نے جس سچائی کو پایا ہے اس سچائی کو تمام انسانوں تک پہنچاؤں ۔ اس سچائی سے خدا کے تمام بندوں کو باخبر کروں ۔ گویا کہ پہلے اگر سچائی کی تلاش نے مجھ کو سراسیمہ کر رکھا تھا تو اب سچائی کو عام کرنے کے جذبہ نے مجھ کو مزید اضافہ کے ساتھ سراسیمگی میں مبتلا کر دیا۔ میری سرگرمیوں کا مرکز عام انسان ہو گیا، نہ کہ محدودطور پر میرے اہل و عیال۔ یہاں دوبارہ ایک حادثہ پیش آیا۔ جب میں دعوت و تبلیغ کے کام میں سرگرم ہوا تو جلد ہی میں نے دریافت کیا کہ مدرسہ کی روایتی تعلیم نے مجھ کو جو صلاحیت دی ہے اس کے ذریعہ میں صرف ”عوام“ کے درمیان اپنا دعوتی کام کر سکتا ہوں۔ جہاں تک ”خواص“ کا تعلق ہے، وہ ایک غیر روایتی کام ہے اور میں ابھی اس کے لیے نااہل (incompetent) ہوں ۔ خواص میں کام کرنے کے لیے مجھے مزید استعداد درکار ہے۔ اور وہ ہے، انگریزی زبان میں بخوبی لیاقت پیدا کرنا اور جدید افکار کا گہرا مطالعہ کرنا۔ اس احساس نے مجھے دوبارہ ایک نئے مشکل تر کام میں لگا دیا۔ میں انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں دیوانہ وار مصروف ہو گیا۔ اس زمانہ میں میرا حال یہ تھا کہ سڑک پر چلتے ہوئے میں اپنے ہاتھ میں کوئی انگریزی کتاب لیے رہتا تھا اور ماحول سے بے خبر ہو کر چلتے ہوئے اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ روڈ ریڈنگ کی یہ دیوانگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ میری ماں اور میرے بڑے بھائی یہ کہا کرتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ شخص سڑک پر چلتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا جائے گا اور اس طرح وہ اپنا خاتمہ کر لے گا۔ اس طرح شادی کے بعد ہی سے میرا یہ حال ہوا کہ میں اپنی اہلیہ کے لیے کچھ بھی نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ میرے بچے پیدا ہو گئے اور کسی قسم کی معاشی بنیاد ابھی تک میں نے نہیں بنائی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں ایک دن میں باہر سے چل کر گھر کے اندر آیا۔ اس وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader