عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
میری اہلیہ میرے بڑے بھائی کے گھر (باقی منزل) کے ایک کمرہ میں رہتی تھیں۔ اعظم گڑھ میں میری اہلیہ کی ایک سہیلی تھیں جن کا نام رضیہ بیگم تھا۔ میں کمرہ میں داخل ہوا تو میری اہلیہ نے کہا کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تم لوگ اس طرح کب تک رہو گے۔ تمہارے بچوں کا معاشی مستقبل کیا ہوگا۔ میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے: رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔ میری زندگی کا جو اسٹائل بنا، اس کی سب سے زیادہ قیمت میری اہلیہ کو دینی پڑی۔ شادی شدہ زندگی کبھی میری دلچسپیوں کا مرکز نہ بن سکی۔ مجھے ہمیشہ کچھ اور ہی چیزوں کی دھن لگی رہتی تھی۔ میرا ذہنی ارتکاز (concentration) مکمل طور پر کسی اور طرف تھا۔ اس دھن کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اس مجتہدانہ مشن کو لے کر کھڑا ہو سکا جس کا کوئی نمونہ میرے آس پاس موجود نہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ یوروپی کولونیلزم سے لے کر امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر تک مسلمان جس ناموافق صورت حال سے دوچار ہوئے، اس نے اس مدت میں پیدا ہونے والے تمام علماء اور مصلحین کو منفی طرز فکر میں مبتلا کر دیا۔ ایسے حالات میں مجھے اسلام کے مثبت تصور کو دوبارہ دریافت کرنا تھا، جو تقریباً تین سو سال سے منفی تقریروں اور تحریروں کے انبار میں چھپ گیا تھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی سے لے کر ڈاکٹر یوسف القرضاوی تک تمام علماء جہاد کو قتال کے ہم معنی بتاتے رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مجھے اس مشکل کام کو کرنا پڑا کہ میں جہاد فی سبیل اللہ کو پرامن دعوتی جدوجہد کے مفہوم میں دریافت کروں۔ تین سو سال کے حالات نے تمام علماء اور رہنمائوں کو غیر مسلموں کے خلاف نفرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب مجھے یہ کرنا پڑا کہ نفرت کے سمندر میں غوطہ لگا کر محبت انسانی کے گم شدہ موتیوں کو دریافت کروں۔ جدید سائنس کے ذریعہ موجودہ زمانہ میں نیا طاقت ور علم کلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader