Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

وجود میں آیا تھا مگر اہل مغرب سے نفرت کے نتیجے میں ہمارے علماء کے لیے وہ اب تک غیر دریافت شدہ بنا ہوا تھا۔ مجھے یہ کرنا تھا کہ میں اس غیر دریافت شدہ متاع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کروں۔ مجھے دنیا میں بے آمیز دعوت کا کام کرنا تھا۔ یہ کام اتنا نازک ہے کہ اس میں اونچ جھکاؤ (tilt) بھی داعی کو دو ہر ا عذاب کے رسک میں مبتلا کر دیتا ہے (الاسراء، 75-17: 74) ۔ ایسی حالت میں میرے لیے بیوی بچوں کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی نہیں تھا، چہ جائیکہ میں اُن کے لیے عملاً کچھ کروں۔ اس طویل اور جاں گسل منصوبہ کو جاری رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی ہو جو اس کی قیمت ادا کرے۔ میری اہلیہ نے یہی قیمت ادا کی۔ انہوں نے ناقابل برداشت کو برداشت کیا۔ وہ پوری عمر صبر کے اصول پر قائم رہیں، اور کبھی شکایت کا ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ حالاں کہ میرا حال یہ تھا کہ تقریباً پوری عمر میں نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ شاید قارئین کو یقین نہیں آئے گا کہ میں نے 1942ء سے لے کر اب تک اپنی اہلیہ کے لیے ایک جوڑا کپڑا بھی نہیں بنایا۔ کبھی ان کے لیے جوتا یا چپل نہیں خریدا۔ ان کی مادی ضرورتوں کے بارے میں میں مکمل طور پر غیر جانب دار بنار ہا۔ کسی صاحب مشن کے لیے اس قسم کا یک طرفہ تعاون بہت قیمتی ہے، اور ایسا تعاون کسی کو صرف ایک عورت ہی سے مل سکتا ہے۔ میری اہلیہ کامل صبر کا ثبوت دیتے ہوئے میرے لیے ایک نو پرا لہم خاتون بن گئیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یقینی تھا کہ میرا سارا منصوبہ نا تمام رہ جاتا۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی ایک حیوان کا سب بن جاتا۔ اور پھر اسی حالت میں ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا جہاں سے دوبارہ واپس آنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ فریدہ خانم اس سلسلہ میں تیسرا نام میری لڑکی کا فریدہ خانم کا ہے۔ فریدہ خانم کی پیدائش 2 مئی 1952

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page