Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اعظم گڑھ میں ہوئی ۔ ان کی صحت اگر چہ بچپن سے اچھی نہ تھی مگر انھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پرائیوٹ طور پر ہائی اسکول اور پری یونیورسٹی کے امتحانات پاس کئے ۔ پھر انہوں نے دلی کالج (نئی دہلی) سے بی اے (انگلش آنرس) کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ اور پھر جامعہ ملیہ ہی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں اسلامک اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں ریڈر ہیں۔ فریدہ خانم کا حصہ (contribution) ہمارے مشن میں اتنا زیادہ ہے کہ شاید اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ 1976ء میں جب میں نے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا تو مضامین کی تیاری کے سوا دوسرے اکثر کاموں کو انھوں نے اپنے ذمہ لے لیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک وہ ہمارے اس مشن سے پوری طرح جڑی ہوئی ہیں ۔ جہاں تک الرسالہ مشن کے انتظامی معاملات اور اس کو عالمی سطح پر پھیلانے کا معاملہ ہے، اُس کو میرے لڑکے ثانی اثنین خاں نے بخوبی طور پر سنبھال رکھا ہے اور تحریری امور میں معاونت کا کام فریدہ خانم نے ۔ یہاں میں صرف چند مثالوں کا ذکر کروں گا تا کہ فریدہ خانم کے ان کاموں کا اندازہ ہو سکے جو انھوں نے قربانی کی سطح تک جا کر انجام دیے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ جب بھی کسی شخص نے میرے مشن میں کوئی تعاون کیا تو اس نے یہ ضرور چاہا کہ اس کا نام لوگوں کے علم میں آئے ۔ اپنے تجربہ کے مطابق ، میں نے فریدہ خانم میں وہ انوکھی صفت پائی ہے جس کو ایک مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : نیکی کر دریا میں ڈال ۔ کسی مشن میں بے غرضانہ تعاون شاید عورت ہی کے لیے ممکن ہے ۔ یہ مزاج شاید مرد کو بہت کم دیا گیا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page