Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

لائبریریوں میں انھوں نے لمبی مدت تک اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے تمام کتابوں کے اصل اقتباسات پورے حوالے کے ساتھ حاصل کرلیے۔ غالباً اس معاملہ میں ان کو پہلا خیال اس وقت آیا جب کہ مسٹر اکرام الدین احمد (IAS) کی طرف سے ایک لمبی فہرست ملی۔ انھوں نے میری کتاب مذہب اور جدید چیلنج کا مطالعہ کر کے ان تمام کتابوں کی ایک مکمل فہرست کئی صفحات میں ٹائپ کر کے بھیجی۔ انہوں نے یہ فہرست اس لیے بھیجی تھی کہ میں انہیں یہ تمام کتابیں فراہم کروں۔ میں یہ کتابیں ان کو فراہم نہ کرسکا مگر ان کی بنائی ہوئی یہ فہرست فریدہ خانم کے لیے ایک محرک بن گئی۔ انھوں نے اس فہرست کو لے کر تمام لائبریریوں میں چھان بین شروع کر دی۔ آخر کار انھوں نے تمام انگریزی اقتباسات حاصل کر لیے اور پھر ان اقتباسات کو شامل کرتے ہوئے پوری کتاب کا ترجمہ تیار کر لیا۔ یہ ترجمہ کئی مراحل سے گزرا، یہاں تک کہ وہ مکمل ہو کر پہلی بار 1985ء میں دہلی سے چھپا۔ اس کتاب کا نام گاڈا رائز ز (God Arises) ہے اور وہ 288 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ بلاشبہ بے غرضانہ تعاون کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ اس قسم کا کامل بے غرضانہ تعاون شاید ایک عورت ہی کر سکتی ہے۔ ایسے بے غرضانہ تعاون کے لیے جن لطیف صلاحیتوں کی ضرورت ہے، وہ شاید خالق نے مرد کو کم دیے ہیں۔ یہ انوکھی صفت خصوصی طور پر شاید صرف عورت کا حصہ ہے۔ دوسرا واقعہ جس کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ سوئزرلینڈ کے ایک سفر کے دوران جولائی 2002ء میں پیش آیا۔ مختلف مغربی ملکوں کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل ادارہ قائم ہوا ہے۔ اس ادارہ کا نام نیوکلیئر ڈس آرمانٹ فورم (Nuclear Disarmament Forum) ہے۔ اس ادارہ کے تحت سوئٹزرلینڈ کے تاریخی شہر زُگ (Zug) میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی جس میں مختلف ملکوں کے پروفیسر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بلائے گئے۔ ان کی دعوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page