عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
پر میں بھی اس کافرنس میں شریک تھا۔ 29 جولائی کی صبح کو صدر کافرنس آندرے بیکوف نے اعلان کیا کہ ہم کو انٹرنیشنل ہیں کے موضوع پر ایک ڈا کومنٹ کی ضرورت ہے۔ اس کو ہم مختلف زبانوں میں شائع کر کے پوری دنیا میں پہنچائیں گے ۔ اس کے بعد انھوں نے شرکاء کافرنس کے تین گروپ بنائے ۔ انھوں نے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک الگ الگ حلقہ میں بیٹھے اور اپنا اپنا ڈا کومنٹ پائے ۔ اس میں سے ایک ڈا کومنٹ کو منتخب کر کے ہم کل صبح کے اجلاس میں پیش کریں گے ۔ چنانچہ ہر گروپ نے دو دن کی متحدہ کوشش سے اپنا اپنا ڈا کومنٹ بنایا اور پھر اسے آندرے بیکوف کے حوالہ کر دیا۔ رات کو تقریباً دس بجے جب کہ میں اپنے کمرے میں اکیلا تھا اور نمازِ عشاء سے فارغ ہو کر سونے کی تیاری کر رہا تھا، اچانک آندرے بیکوف میرے کمرہ میں آئے ۔ وہ غمگین دکھائی دیتے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ تینوں گروپ نے اپنا اپنا ڈا کومنٹ مجھے دیا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی مجھے پسند نہیں آیا۔ میں سخت پریشان ہوں کہ کل صبح کے اجلاس میں لوگوں کے سامنے کیا چیز پیش کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ پریشانی کے عالم میں میں یہاں کے چرچ میں چلا گیا۔ وہاں میں نے دعائیں کیں۔ آخر کار میرے دل میں آیا کہ یہ کام صرف آپ کر سکتے ہیں۔ آپ میرا مطلوب ڈا کومنٹ تیار کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں صبح کو دوبارہ آپ سے ملوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت تک آپ یہ ڈا کومنٹ تیار کر چکے ہوں گے ۔ میں حیرانی کے عالم میں تھا اور ان کا کوئی جواب بھی نہیں دے پایا تھا۔ وہ مجھے اسی حال میں چھوڑ کر میرے کمرہ کے باہر چلے گئے۔ میری لڑکی فریدہ خانم بھی میرے ساتھ اس سفر میں گئی تھیں۔ وہ اسی ہوٹل کے دوسرے کمرہ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ میں نے ٹیلی فون کر کے انہیں بلایا۔ وہ آئیں تو میں نے ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader