عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
سے آندر سے بیکوف کا قصہ بیان کیا۔ میں نے کہا کہ بڑے بڑے عالمی پروفیسر اور انگریزی کے ماہرین جس کام کو نہ کر سکے، اس کو میں کس طرح کر سکتا ہوں۔ میں اس معاملہ میں اپنے آپ کو بالکل عاجز محسوس کرتا ہوں۔ مگر فریدہ خانم کا ردعمل بالکل مختلف تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس پوری ایک رات ہے۔ ہم خدا سے دعا کریں گے اور رات بھر جاگ کر اس کو تیار کریں گے۔ ان کے ایک گھنٹہ کے اصرار کے بعد آخر کار میں راضی ہو گیا۔ اس کے بعد میں فریدہ خانم کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پہلے میں نے ڈا کومنٹ کے بارے میں ان سے ڈسکس کیا۔ آخر کار اس کا ایک واضح خاکہ بن گیا۔ اب فریدہ خانم نے اس کو لکھنا شروع کیا۔ میں اپنے خیالات کچھ انگریزی میں اور کچھ اردو میں بولتا تھا اور فریدہ خانم اس کو انگریزی زبان میں لکھتی جارہی تھیں۔ اس عمل میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ آخر کار چند صفحہ پر مشتمل اس کا مضمون تیار ہو گیا۔ اگر چہ جب وہ تیار ہوا تو فجر کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ اس کے بعد ہم دونوں نے فجر کی نماز پڑھی۔ صبح کی چائے کے بعد فریدہ خانم نے یہ کیا کہ انھوں نے کانفرنس کے آفس میں جا کر تین صفحے کے ڈا کومنٹ کو کمپیوٹر پر ٹائپ کیا۔ اور پھر پرنٹ آؤٹ کے ذریعہ اس کی چند کاپیاں نکالیں اور اسی وقت اس کو آندر سے بیکوف کے حوالہ کر دیا۔ ڈا کومنٹ کو پڑھنے کے بعد آندر سے بیکوف دوبارہ میرے کمرہ میں آئے۔ کل کے برعکس، آج وہ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ڈا کومنٹ کی ایک کاپی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسا ہی ڈا کومنٹ چاہتا تھا۔ اب میں اس ڈا کومنٹ کو آج کے اجلاس میں پیش کروں گا اور اس کو منظور کروا کر ساری دنیا میں اس کو پھیلاؤں گا۔ انھوں نے کہا کہ پیں کے موضوع پر اب تک میں نے اس سے واضح کوئی ڈا کومنٹ نہیں دیکھا۔ یہ ڈا کومنٹ میری 136 صفحہ کی کتاب آئیڈیالوجی آف پیں (شائع شدہ 2003) میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader