Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

شامل ہے۔ یہی وہ ڈاکیومنٹ تھا جو ابتدائی طور پر اس کا ذریعہ بنا کہ امن عالم کے بارے میں میرے نظریات اور میری کوششیں انٹرنیشنل سطح پر نمایاں ہوں۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں مزید واقعات ہوئے ۔ یہاں تک کہ 12 اکتوبر 2002 کو سوئزر لینڈ میں مجھے ہیں کا انٹرنیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ یہ ایوارڈ سابق روسی صدر میخائل گور با چوف نے دیا۔ اس واقعہ کی تفصیل سفر نامہ سوئزر لینڈ مطبوعہ ماہنامہ الرسالہ اگست 2003 میں دیکھی جاسکتی ہے۔ فریدہ خانم کا یہ بے غرضانہ کنٹری بیوشن قدرت کے اس انوکھے معجزہ کو بتاتا ہے جو اس نے عورت کی شخصیت میں فطری طور پر رکھ دیا ہے۔ فریدہ خانم کا میری زندگی میں جو حصہ ہے اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق روزانہ کی زندگی سے ہے۔ یعنی علمی اور دینی موضوعات پر ڈسکشن کرنا ۔ یہ ڈسکشن کوئی سادہ چیز نہیں۔ وہ فکری ارتقاء کے عمل (process) میں لازمی جزء کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں کبھی جمود ذہنی کا شکار نہیں ہوا۔ میرے اندر فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس فکری ارتقاء کے جو وسائل ہیں ان میں سے ایک وسیلہ بلاشبہ فریدہ خانم کے ساتھ میرا وہ علمی ڈسکشن ہے جو بلا ناغہ ہر روز جاری رہتا ہے ۔ اس اعتبار سے میں فریدہ خانم کو اپنا فکری معاون (intellectual assistant) کہتا ہوں ۔ اس معاملہ کی ایک مثال زیر نظر کتاب (عورت معمارِ انسانیت ) میں بھی موجود ہے ۔ اس کتاب کو تیار کرنے کے بعد میں نے اس کے آخر میں ایک مختصر تحریر لکھی جو کتاب کے آخر میں ڈیڈی کیشن (dedication) کے عنوان سے شامل ہے۔ اس تحریر میں میں نے لکھا تھا کہ ہاجرہ ام اسماعیل نے قدیم دور میں ایک قربانی دی جس کے نتیجہ میں انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ اب ضرورت ہے کہ دوبارہ ایک عورت اُٹھے جو ہاجرہ کا رول ادا کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page