عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تحریر تیار کرنے کے بعد میں نے حسب معمول اس کو فریدہ خانم کو دکھایا۔ فریدہ خانم نے اس کو پڑھنے کے بعد کہا کہ دوسرے دور کے کارنامہ کے لیے صرف ایک عورت کی بات لکھنا ٹھیک نہیں۔ بہتر ہے کہ اس کو عام بنا دیا جائے ۔ تاکہ ہر عورت اپنے آپ کو اس کا مخاطب سمجھے۔ ہر عورت یہ سمجھے کہ مجھے بھی یہ رول ادا کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے عبارت میں ترمیم کر کے اس کو فریدہ خانم کے مشورہ کے مطابق کر دیا۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اس قسم کے مفید ڈسکسن کے لیے بھی عورت بے حد موزوں ہوتی ہے۔ اپنی مختلف فطری خصوصیات کی بنا پر وہ اس کام کو نہایت بہتر طور پر کر سکتی ہے۔ فریدہ خانم کی لمبی مدت تک جس طرح الرسالہ مشن سے جڑی رہیں ، وہ ان کے لیے کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مدت میں ان کے سامنے غیر معمولی رکاوٹیں آئیں ، انہیں انتہائی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے باوجود مشن کے ساتھ ان کی وابستگی کم نہ ہوسکی ۔ فریدہ خانم کے اس تجربہ میں مجھے عورت کی ایک انتہائی اہم صفت دریافت ہوئی اور وہ اٹوٹ وفاداری ہے۔ کسی مقصد کے ساتھ تعلق اگر صرف عقلی بنیاد پر ہو تو وہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عقلی اطمینان کے علاوہ مقصد کے ساتھ گہری قلبی وابستگی بھی ضروری ہے۔ یہی قلبی وابستگی اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ شکایتوں کے باوجود مقصد کے ساتھ تعلق آخر تک قائم رہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت فطری طور پر ایموشنل (emotional) ہوتی ہے ۔ یہ صفت مرد کے اندر نسبتاً کم پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی خاص مانع سبب نہ ہو تو عورت کو بہت جلد مقصد یا مشن کے ساتھ جذباتی لگاؤ (emotional attachment) قائم ہو جاتا ہے۔ یہی جذباتی لگاؤ اس کو مقصد کے ساتھ مستقل طور پر جوڑے رہتا ہے۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader