Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

بے غرضانہ تعلق کسی مقصد کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے، اور اس قسم کا بے غرضانہ تعلق عورتوں کے اندر مردوں سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے علم کے مطابق، ہر عورت امکانی طور پر وہی ہے جس کا تجربہ میں نے فریدہ خانم کی صورت میں کیا۔ ہر عورت پیدائشی طور پر فریدہ جیسی ہی ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر عورت فریدہ جیسی خاتون نہیں بن پاتی۔ تاہم اس کی ذمہ داری تمام تر مرد کے اوپر ہے۔ مردوں کا عام طور پر یہ حال ہے کہ وہ عورت کو بس تفریح یا گھر داری کی چیز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عورت کے فطری امکان (potential) کو دریافت نہیں کیا۔ اور جس چیز کو آپ دریافت نہ کر سکیں، اس کو آپ استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ ہر مرد کے لیے عورت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ مگر یہ سرمایہ بالقوہ (potential) صورت میں ہے۔ یہ مرد کا کام ہے کہ وہ اس بالقوہ کو دریافت کر کے اسے بالفعل تک پہنچائے۔ وہ فطرت کے امکان کو واقعہ کی صورت میں ڈھال لے۔ مرد کی اس کمزوری کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلسل طور پر بے فائدہ مشغولیت (idle business) میں لگا رہتا ہے اور عورت کو بھی اسی میں مشغول رکھتا ہے۔ شاپنگ، آؤٹنگ، سوشلائزنگ اور پارٹیاں وغیرہ، بلاشبہ وقت کا بے فائدہ استعمال ہیں۔ مرد یہ کرتا ہے کہ وہ عورت کوانہیں بے فائدہ سرگرمیوں میں مشغول رکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ عورت کو کچھ اور کرنے یا سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ دہلی میں ایک لائق خاتون کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے وقت کا زیادہ حصہ بس کھانے پینے کے انتظام میں صرف کرتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا: you are under-using your potential بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ مذکورہ خاتون کے اس کم تر استعمال کی ذمہ داری ان کے شوہر کے اوپر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page