Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

دیگر خواتین میرے تجربہ کے مطابق ، عورت دعوتی کام کے لیے ، خاص طور موجودہ زمانہ میں ، بے حد موزوں ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کسی مرد کے سامنے جب کوئی بات کہی جائے تو اس کے اندر فوراً ایگو (ego) کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اور داعی کے درمیان وہ نفسیات ابھر آتی ہے جس کو آنا کا ٹکراؤ (ego clash) کہا جاتا ہے۔ یہ نفسیات اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ مگر جب دعوت دینے والی شخصیت ایک عورت ہو تو یہ نفسیات بہت کم پیدا ہوتی ہے۔ سننے والے معتدل انداز میں کہی ہوئی بات کو سن لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس پر غور کرنے کے لیے مجبور پاتے ہیں۔ اس طرح کی بہت سی خواتین ہیں جو اپنے اپنے انداز میں مختلف ملکوں میں کام کر رہی ہیں اور اپنی کوششوں میں کامیاب ہیں۔ ان میں سے کچھ خواتین کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ۔ مثلاً کراچی میں ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی (1957ء) ، دہلی میں قدسیہ سید ، دہلی میں غزالہ جنگ ، بنگلور میں فاطمہ سارہ (پیدائش 1967ء) ، ڈھا کہ میں سیدہ ربابہ عبدالرحمن ، حیدر آباد میں ذکیہ کوثر ، وغیرہ۔ ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ وہ اُردو کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان بھی بخوبی جانتی ہیں۔ انھوں نے کراچی میں الہدیٰ انٹرنیشنل کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت وہ خواتین کو باقاعدہ نظام کے تحت اسلامیات کی تعلیم دیتی ہیں۔ اس ادارہ ہے جو خواتین تربیت پا کر نکلتی ہیں وہ دوبارہ اپنے اپنے مقامات پر اسی ڈھنگ پر تعلیم وتربیت کا کام شروع کر دیتی ہیں۔ اس طرح الہدیٰ انٹرنیشنل کا کام وسیع پیمانہ پر پھیل گیا ہے۔ فرحت نسیم ہاشمی کے اندر تقریر کا بھی اچھا ملکہ ہے۔ ان کے شوہر پروفیسر محمد ادریس نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page