Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

بتایا کہ فرحت نسیم ہاشمی کے تقریری پروگراموں میں عورتیں اتنی بڑی تعداد میں آتی ہیں جیسے کہ لوگ سیاسی جلسوں میں آیا کرتے ہیں۔ فرحت نسیم ہاشمی کی تقریریں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں درسِ قرآن کا ایک مؤثر انداز اختیار کیا ہے۔ اپنے درس میں پہلے وہ قرآنی آیات کے لفظ لفظ کا ترجمہ کرتی ہیں تا کہ سننے والا ایک ایک لفظ کا مطلب سمجھ لے۔ اس کے بعد وہ اپنے سادہ اور دل نشیں انداز میں زیرِ درس آیتوں کی تشریح کرتی ہیں۔ سننے والے پورے دھیان کے ساتھ ان کی تقریر کو سنتے ہیں اور اس سے اثر لیتے ہیں۔ درسِ قرآن سے متعلق ان تقریروں کے آڈیو ٹیپ تیار کر لیے گئے ہیں۔ یہ آڈیو ٹیپ بڑے پیمانہ پر پھیل گئے ہیں۔ ہر جگہ ان کو بڑے شوق کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ فرحت نسیم ہاشمی کی تقریریں سیاست اور ٹکراؤ کی باتوں سے مکمل طور پر خالی ہوتی ہیں۔ یہ ٹھیپ خالص تعمیری اور دعوتی انداز کے ہوتے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کے ذریعہ لوگوں میں خاموشی کے ساتھ ایک فکری انقلاب آ رہا ہے۔ دہلی میں میں نے جنوری 2001ء سے ایک خاص پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کو ہم اسپرپچول کلاس (spiritual class) کہتے ہیں ۔ یہ ایک ہفتہ وار کلاس ہے جس کا مقصد روحانیت کو اور اسلام کو مثبت انداز میں سمجھنا ہے۔ اس کلاس میں زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ نو جوان شریک ہوتے ہیں۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ کئی ہندو خواتین بھی پابندی کے ساتھ شرکت کرتی ہیں۔ مثلاً پریا ملک، سنتھی ملہوترا، منجور مانی، وغیرہ۔ یہ وہ خواتین ہیں جو ہندو خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ پھر انھوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی۔ تاہم ان کے اندر سچائی کی تلاش کا جذبہ تھا جو فطری طور پر ہر ایک کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اسی جذبہ کے تحت انہوں نے ہماری کلاس میں آنا شروع کیا۔ چند سال کے تجربہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page