Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

آدم اور حوا کو جنت کے باشندے کی حیثیت سے پیدا کیا اور دونوں کو جنت کے ماحول میں رہنے کی اجازت دے دی۔ مگر عورت اور مرد دونوں اس کے اہل ثابت نہ ہو سکے کہ جنت انھیں پیدائشی حق کے طور پر دے دی جائے۔ اُنہوں نے جنت میں ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر اپنے آپ کو اس عمومی استحقاق سے محروم کر لیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ عورت اور مرد دونوں کو جنت انتخابی بنیاد (selective basis) پر دی جائے۔ چنانچہ دونوں کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر آباد کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم دونوں زمین پر رہو اور اپنی نسل بڑھاؤ۔ تمھارے پاس بار بار خدا کی طرف سے پیغمبر آئیں گے جو تم کو بتائیں گے کہ خدا کے معیار کے مطابق حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ جو لوگ خدائی معیار کے اس ٹسٹ پر پورے اتریں وہی دوبارہ ابدی جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اور بقیہ مرد اور عورتوں کو نا اہل قرار دے کر انھیں جنتی زندگی سے محروم کر دیا جائے گا۔ موجودہ زندگی میں ہر مرد اور عورت اسی خدائی ٹسٹ پر ہیں۔ یہ ٹسٹ نسل در نسل قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد سارے انسان اپنے کارنامہ حیات کے مطابق، دو گروہوں میں بانٹ دیے جائیں گے۔ کامیاب گروہ کو دوبارہ جنت میں ابدی داخلہ ملے گا اور نا کام گروہ کو جہنم کے کائناتی کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے گا۔ 2۔ نکاح کا انتخاب عورت اور مرد کے درمیان نکاح کے ضمن میں جو تعلیمات قرآن میں آئی ہیں ان میں سے ایک تعلیم یہ ہے: اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور مومن کنیز بہتر ہے ایک مشرک عورت سے، اگر چہ وہ تم کو اچھی معلوم ہو۔ اور اپنی عورتوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page