Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، مومن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک سے، اگرچہ وہ تم کو اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنے احکام لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (2:221)۔ قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا رشتہ اسلام میں، عام تصور کے مطابق کوئی تفریح نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذمہ داری ہے۔ ایک عورت اور ایک مرد نکاح کے رشتہ میں بندھ کر یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے رفیق بن کر زندگی کی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے۔ وہ انسانیت کے قافلہ کے صحت مند ممبر بنیں گے۔ نکاح کے اس مقصد کو سامنے رکھا جائے تو ظاہری خوش نمائی کی چیزیں اضافی بن جاتی ہیں اور زیادہ اہمیت اس بات کی ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کے اندر معنوی صفات زیادہ پائی جاتی ہوں۔ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ فطرت نے تقسیم میں یہ عمومی اصول رکھا ہے کہ جس مرد یا عورت کے اندر ظاہری خوش نمائی زیادہ پائی جائے اس کے اندر معنوی خوبیاں کم ہوں۔ اسی طرح جس عورت یا مرد کو معنوی صفات زیادہ دی گئی ہوں اُن کو ظاہری خوش نمائی میں کم حصہ ملا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عقلمندی کا تقاضا ہے کہ وقتی قسم کی ظاہری خوش نمائی کو کم اہمیت دی جائے اور مستقل نوعیت کی معنوی صفات کو زیادہ قابل ترجیح سمجھا جائے۔ 3۔ طلاق کا شرعی طریقہ اسلامی شریعت میں عورت اور مرد کے درمیان اصل مطلوب چیز نکاح ہے۔ طلاق کی حیثیت صرف ایک انتہائی استثنائی ضرورت کی ہے، نہ کہ عمومی حکم کی۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2178)۔ یعنی، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page