Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

دوران میں نے پایا ہے کہ یہ خواتین نہایت دھیان کے ساتھ میری باتوں کو سنتی ہیں ۔ وہ مردوں سے زیادہ ریسیپیٹو (receptive) ثابت ہوئی ہیں۔ ہماری کلاس میں آنے سے پہلے ہی خواتین اپنے ماحول کے اثر سے اسلام کے خلاف منفی ذہن رکھتی تھیں۔ ان کے لیے یہ نا قابل تصور تھا کہ اسلام ہی وہ کامل سچائی ہے جسے ان کی فطرت تلاش کر رہی ہے۔ مگر چند سال تک مسلسل ہمارے ہفتہ وار کلاس میں شرکت کے بعد ان کی سوچ بدل گئی ۔ ان کے دل نے پوری گہرائی کے ساتھ اس بات کا اعتراف کر لیا کہ اسلام ہی وہ سچائی ہے جس کو ان کی فطرت تلاش کرتی ہے۔ اس تجربے سے مجھے ایک نئی بات معلوم ہوئی جس کو میں نے اس سے پہلے نہ سنا تھا اور نہ پڑھا تھا، وہ یہ کہ انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان ، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، بظاہر غیر مذہبی معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں 'غیر مذہبی' نہیں ہیں۔ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ 'غیر روایتی' ہیں۔ اُن کے گھر اور ان کے ماحول نے اُن کے اندر اپنے آبائی مذہب کے لیے جو عقیدت پیدا کی تھی، اُس کو جدید انگریزی تعلیم نے ختم کر دیا ، گویا کہ ان کی فطرت کے اوپر جو روایتی پردہ پڑا گیا تھا ، وہ ہٹ گیا اور وہ اپنی اصل فطرت کے قریب آگئے۔ اس تجربے سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن کے ادارے اپنی حقیقت کے اعتبار سے 'قتل گاہ' نہیں ہیں، بلکہ وہ تطہیر ذہن کے ادارے ہیں۔ اِس نتیجے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دراصل ڈی کنڈیشنگ کے ادارے (institutions of deconditioning) ہیں۔ ذہنی تطہیر کے اِس عمل کی بنا پر ایسے لوگ اِس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ کسی بات کو زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ سمجھ سکیں۔ ایک حدیث کے مطابق ، ہر پیدا ہونے والا اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اُس کو اس کے والدین اپنے اپنے مذہب میں ڈھال لیتے ہیں: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385) ۔ یہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page