Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہبی کنڈیشنگ کا معاملہ ہے۔ یہ مذہبی کنڈیشنگ دعوتِ حق کے مشن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کنڈیشنگ کی ڈی کنڈیشنگ دعوت کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔ موجودہ سیکولر تعلیم کا نظام، ڈی کنڈیشنگ کے اسی عمل کو انجام دے رہا ہے۔ گویا کہ جن نوجوانوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ جدید تعلیم کے بعد وہ مذہب سے پھر گئے ہیں، برعکس طور پر جدید تعلیم نے اُن کو حقیقی مذہب سے قریب کر دیا ہے۔ یہ ایک نیا امکان ہے، جو جدید تعلیم نے پیدا کیا ہے۔ اس امکان کو استعمال کرنا، دعوتی منصوبہ بندی کا پہلا اصول ہے۔ قرآن میں فطرت کا یہ اصول بتایا گیا ہے کہ ناپسندیدہ صورتِ حال میں بھی ایک موقع موجود رہتا ہے: عَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (2:216)۔ موجودہ تعلیمی نظام کا یہ پہلو اسی فطری قانون کی ایک مثال ہے۔ مذکورہ خواتین جو ہمارے ہفتہ وار اسپرچول کلاس میں آتی ہیں، اب انہوں نے اپنے اپنے دائرہ میں دعوت ورک بھی شروع کر دیا ہے۔ وہ حسب موقع لوگوں کے سامنے حق کا پیغام پہنچاتی ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک کی بیگ میں ہمارے یہاں کے چھپے ہوئے پمفلٹ موجود رہتے ہیں۔ یہ خواتین ابتدائی تعارف کے بعد یہ کتابیں لوگوں کو پڑھنے کے لیے دے دیتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اُن کا ٹیلی فون نمبر لے لیتی ہیں اور اپنا ٹیلی فون نمبر انہیں دے دیتی ہیں تا کہ آئندہ دعوتی عمل کا تسلسل جاری رہے۔ میں اپنے تجربہ کے مطابق، یہ کہہ سکتا ہوں کہ عام مردوں کے مقابلہ میں ایک تعلیم یافتہ خاتون شاید زیادہ بہتر دعوتی کام کر سکتی ہے۔ اسلام کے دور اول میں یہ ہوا کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں نے زیادہ بڑے کارنامے انجام دیے۔ مگر موجودہ حالات کی نسبت سے میرا احساس یہ ہے کہ اسلام کے دور ثانی میں شاید مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ بڑے کارنامے انجام دیں گی۔ اسلام کی دعوت کو آج انقلاب تک پہنچانے کے لیے شاید یہی مقدر ہے کہ عورتیں اس میں بنیادی کردار ادا کریں۔ تاریخ کا اشارہ بظاہر ایسا ہی بتا رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page